اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

سندھ کابینہ نے بدین میں کوئلے سے 300 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے العباس کمپنی سے مشترکہ منصوبے کی منظوری دیدی:
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔12 اپریل ۔2010ء) سندھ کابینہ نے بدین میں کوئلے سے 300 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے العباس کمپنی سے مشترکہ منصوبے کی منظوری دیدی۔ سندھ میں کوئلے سے چلنے والے اس پہلے بجلی گھر کے منصوبے پر سرمایہ کار ادارے کا 60 کا فیصد اور حکومت کا 40 فیصد حصہ ہوگا۔ دو حصوں پر مشتمل یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہوگا جس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا جبکہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے آئندہ مالی سال کے دوران بجٹ کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ صوبے کی مالیاتی حالت کے بارے میں کابینہ کے اجلاس میں دوسرے روز آج (منگل) تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ یہ بات وزیرا علیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات جمیل سومرو نے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں بتائی ۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات سید ممتاز علی شاہ اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات سید صفدر علی شاہ بھی موجود تھے۔ کابینہ کا اجلاس پیر کو وزیرا علیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ بلڈنگ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ جمیل سومرو کے مطابق تھرکول کے بعد دوسرے بڑے منصوبے کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں صوبائی وزراء سید سردار احمد ، سید مرا دعلی شاہ اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی نے سفارش پیش کی کہ العباس گروپ کے ساتھ بدین میں 300 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے کول پاور پلانٹ لگانے کیلئے جوائنٹ وینجر کی منظوری دی جائے۔ کابینہ نے اپنی قائم کردہ کمیٹی کی سفارش کی روشنی میں اس اقدام کی منظوری دیدی۔ بدین میں لگائے جانے والے اس منصوبے کے تحت پہلے حصے میں کوئلے کی کان کنی پر 8 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ منصوبے کے دوسرے حصے پول پاور پلانٹ پر 43 ارب 5 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جمیل سومرو نے کہا کہ 24 ماہ میں مکمل ہونے والے اس منصوبے سے صوبے میں بجلی کے بحران کے حل میں مدد ملے گی جبکہ ملازمتوں کے بہتر مواقع سامنے آئیں گے۔ جمیل سومرو نے بتایا کہ دوران اجلاس صوبے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے سلسلے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اضافے کی تجویز منظور کرلی گئی جبکہ رواں سال کے دوران 67 ارب روپے کے بجٹ میں مزید 8 ارب روپے کا اضافہ کرکے 75 ارب روپے کردیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ کرنے والے ادارہ ریاض لعل کا نہیں بلکہ ایک مالیاتی گروپ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہوئی نہ ہی وزیرا علیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سینئر وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے درمیان کسی قسم کی تلخ کلامی ہوئی۔ انہوں نے اس امر کی بھی تردید کی کہ دوران اجلاس سینئروزیر نے غلط رویہ اپنایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیرا علیٰ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کیلئے کوئٹہ جانا پڑا چنانچہ اجلاس جلد ختم کرنا پڑا تاہم اجلاس آج (منگل) کو دوبارہ ہوگا جس میں صوبائی کابینہ کو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2009-10ء کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی اور اس ضمن میں سندھ حکومت کی مالیاتی حالت سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

12/04/2010 19:54:47 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے