اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

موسم کی شدت میں اضافہ ‘طلب 14ہزار میگاواٹ کی حد پا ر کر گئی ،گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں‘ پانی بھی غائب:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔22مارچ۔ 2010ء )موسم کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک بھر میں بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جو 14ہزار میگاواٹ کی حد پا ر کر گیا ہے جبکہ شارٹ فال 4700میگا واٹ تک پہنچ گیا ‘ شدید گرمی میں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں ۔پیپکو کے مطابق بجلی کی مجموعی طلب بڑھ کر 14ہزار 1میگا تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار 9ہزار 3سو میگا واٹ ہے۔ طلب اور کھپت میں فرق بڑھنے کے بعد نیشنل پاور کنٹرول سنٹر اسلام آباد سے گرڈ اسٹیشنز کی جبری بندش کی وجہ سے پیپکو کی جانب سے جاری کیا گیا لوڈ شیڈنگ کا شیڈول بے معنی ہوگیا ہے اور دیہاتوں کے بعد اب شہروں میں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لوگوں کا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے ۔پنجاب کے بڑے شہروں میں شیڈول کے مطابق چھ گھنٹے اور دیہات میں آٹھ گھنٹے بجلی کی بندش کا شیڈول دیا گیا تھا لیکن غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے یہ دورانیہ شہروں میں 12سے 14گھنٹے جبکہ دیہاتوں میں 18سے 20گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔پیپکو حکام کے مطابق گوجرانوالہ ریجن میں شہر میں 12اور دیہات میں 16گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ فیصل آباد ریجن میں شہری علاقوں میں 14اور دیہات میں 16گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔ ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں 14سے 20 گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے باعث پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔

22/03/2010 18:29:02 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے