اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

ملک بھر میں بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہو گیا، عوام پریشان، حکومت کا یکم اپریل سے بجلی کی قیمتوں چھ فیصد اضافے کا فیصلہ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔19مارچ 2010ء) ملک بھر میں بجلی کا بحران شدید ترہوگیا۔ گڈو ٹرانسمیشن لائن میں خرابی کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بجلی دس گھنٹوں بعد بھی بحال نہ ہوسکی ہے۔بلوچستان میں کولپورکے مقام پر بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن کے ٹاورکو نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں بجلی منقطع ہوگئی ہےکیسکو حکام کے مطابق ہائی ٹرانسمشن لائن ٹاور گذشتہ رات کولپوردشت کے مقام پر تباہ کیا گیا۔ جس سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی۔ کوئٹہ کے علاوہ قلات، خضدار، مستونگ، نوشکی، خاران، واشک، چمن، زیارت، قلعہ عبداللہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بھی بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی۔ بجلی بند ہونے کے باعث ٹیوب ویل بھی نہیں چلائے جاسکے ہیں،جس سے ان علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کیسکو ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹاور کی مرمت پر مزید بارہ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔کراچی کے علاقے گلشن حدید فیز ٹو میں مسلسل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف مشتعل افراد نے کے ای ایس سی کمپلین آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر سینٹر میں پھینک دئیے۔مشتعل افراد نے کے ای ایس سی کمپلین آفس کے مین گیٹ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی جس کے بعد مشتعل افراد نے ٹائروں کو آگ لگاکر آفس کے اندر پھینکا ۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعدازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کئے جس کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے۔ جبکہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں یکم اپریل سے چھ فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا ۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن آئندہ چند روز میں جاری کردیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہے۔ حکومت یکم جنوری کو بھی بجلی کی قیمت اٹھارہ اعشاریہ پانچ فیصد بڑھا چکی ہے۔ جبکہ نیپرا ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں علیحدہ اضافہ کرتا ہے۔ ایک سال میں حکومت بجلی کی قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ کرچکی ہے۔

19/03/2010 16:58:25 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے