اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

چینی کمپنی تھر میں بجلی گھر لگانے پر رضا مند ہو جائیگی:
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 ستمبر ۔2009ء) چینی کمپنی شنہوا کارپوریشن تھر میں کوئلے سے چلنے والا ایک ہزار میگا واٹ بجلی گھر لگانے پر دوبارہ رضامند ہوجائے گی۔ شنہوا کارپوریشن نے دو ہزار چھ میں تھر میں کوئلے سے چلنے والے ایک ہزار میگاواٹ بجلی گھر کے منصوبے پر ابتدائی کام شروع کیا تھا۔ کمپنی نے تھر کول بلاک ٹو کا فزیبلٹی سروے بھی مکمل کر لیا تھا۔ تاہم ٹیرف پر اختلاف اور نیپرا کے روئیے کی وجہ سے چینی کمپنی اس منصوبے سے دستبردار ہو گئی تھی۔حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ چین کے دورے میں شنہوا کارپوریشن کے حکام سے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے کام میں کسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائے گی۔ذرئع کے مطابق تھرکول انرجی بورڈ کے رکن سید اسد علی شاہ کی سربراہی میں ایک وفد جلد چین کے دورے پر جائے گا اور شنہوا کارپوریشن کے حکام سے ملاقات کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی دوبارہ کام شروع کرنے پر رضامند ہو گئی تو ایک ہزار میگاواٹ کا بجلی گھر تین سال میں پیداوار شروع کر سکتا ہے۔

08/09/2009 15:28:04 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے