اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

پن بجلی کے بقایاجات کے 10 ارب روپے سرحد حکومت کو جاری کردیئے:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 نومبر ۔2009ء)وفاقی حکومت نے پن بجلی کے بقایاجات کے10ارب روپے سرحدحکومت کوجاری کردیئے جس پرصوبائی حکومت نے این ایف سی اجلاس میں شرکت کافیصلہ کرلیا ہے۔صوبائی وزیرخزانہ ہمایون خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پن بجلی کے بقایاجات کے 10ارب روپے جاری کردیئے انہوں نے کہاکہ وزیراعلی سرحدامیرحیدرخان ہوتی نے گزشتہ روز وزیراعظم سے ملاقات کی جس کے بعد بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی کردی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ پن بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی کے بعد کل ہونے والے ایف سی اجلاس میں سرحدحکومت شرکت کریگی۔ادھر وزیراعلی سرحدنے بقایاجات کی ادائیگی پر وفاق کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبائی معیشت مستحکم ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ہائیڈرل پاؤجنریشن پر زیادہ سے زیادہ سرماریہ کاری کی جائیگی ۔واضح رہے کہ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے سرحدحکومت کوپن بجلی کی بقایاجات کی پہلی قسط جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم دس ارب روپے کی پہلی قسط جاری نہ ہونے پر صوبائی حکومت نے کل ہونے والے این ایف سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کافیصلہ کیا تھا۔ ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے سرحد حکومت اور وفاق کے درمیان اعلی سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیراعلی سرحد اوروفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین سمیت دیگر اعلی حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں سرحد حکومت نے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات اور این ایف سی اجلاس کے حوالے سے اپنے موقف سے حکومت کو آگاہ کیا۔ مذاکرات کے بعد وفاقی حکومت نے صوبہ سرحد کو آئندہ چند روز میں پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کے دس ارب روپے کی پہلی قسط جاری کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ ذرائع کے مطابق سرحد حکومت نے مشروط طور پر این ایف سی کراچی اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہرکی ہے۔

17/11/2009 14:31:17 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے