اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

سرحد کو پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 110 ارب روپے کی ادائیگی خوش آئند ہے،صوبائی وزیرخزانہ:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔یکم نومبر ۔2009ء) صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ انجینئر محمد ہمایون خان نے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے صوبہ سرحد کو پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 110 ۔ارب روپے کی ادائیگی کے اعلان پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ منتخب جمہوری حکومت کی ایک بہت بڑی فتح ہے۔ پشاور سے جاری اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ اس خطیر رقم سے اس صوبے کے مسائل میں خاطر خواہ کمی آئیگی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہی کی نشاندہی پر وزیر اعظم پاکستان نے ملاکنڈ ،دیر اور چترال کوبھی ان آفت زدہ علاقوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا جہاں پر فوجی آپریشن اور دہشت گردی کی وجہ سے عوامی املاک کونقصان پہنچے ہیں۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چونکہ ملاکنڈ ڈویژن میں شورش اور بدامنی کی وجہ سے زراعت ،صنعت اور تجارت کو سخت دھچکا لگاہے اور یہاں کے عوام اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ بینکو ں سے لئے جانے والے بھاری قرضوں اوران قرضوں پر سودکی ادائیگی کابوجھ برداشت کرسکیں ۔اس لئے انہوں ں ے وزیر اعظم سے ریلیف کامطالبہ کیا۔جس پر وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی نے متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کیں کہ تمام بینکوں کو ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں سے قرضوں کی واپسی اوران پر سود لینے میں فوری طورپر ریلیف دینے کابندوبست کیا جائے۔ انجینئر محمد ہمایون خان نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور قومی مالیاتی کمیشن کے اراکین کاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے پن بجلی کے خالص منافع کے مسئلے کو این ایف سی کے ایجنڈے میں شامل کرکے ایک دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار اد ا کیا۔

01/11/2009 16:36:37 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے