اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کی طلب میں سالانہ آٹھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے ، پرویز اشرف:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جولائی ۔2009ء) وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ملک میں 20 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے، اس وقت بجلی کی کمی 35 سو میگاواٹ تک ہے، بجلی کی طلب میں سالانہ آٹھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے تمام تر وسائل استعمال کئے جائیں گے ، کے ای ایس سی کی کارکردگی کو بہتربنایا جائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ تمام یونٹس کام کریں تو اس وقت ملک میں 15 سے 16 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے اس میں سے 6 ہزار 500 میگاواٹ ہائیڈرو اور باقی ایٹمی اور تھرمل یونٹس کے ذریعہ پیدا کی جارہی ہے جبکہ ایک فیصد بجلی کوئلے کے ذریعہ پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی مجموعی کمی 3000 سے 3500 میگاواٹ تک ہے۔ گزشتہ سات سال میں ایک بھی یونٹ بجلی پیداوار نہ کرنے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بجلی کی طلب میں سالانہ 8 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بد انتظامی بھی بجلی کی کمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کا بڑا سبب بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی آئی پی پیز پر کام تیز کر دیا اور 90 ارب روپے کا انتظام کیا اور پیپکو اور دوسری کمپنیوں کی ادائیگیاں کی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کے ای ایس سی کی نجکاری سابق دور میں کی گئی تھی اور کسی بھی قسم کی شکایت موصول ہونے کی صورت میں نیپرا ا س کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کے ای ایس سی کے سسٹم میں خرابیاں ہیں جبکہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے 36 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کررکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ خوشی سے شروع نہیں بلکہ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

10/07/2009 17:45:19 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے