اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کے نرخ میں چھ فیصد اضافہ کا اطلاق55 لاکھ متوسط صارفین اور زرعی مقاصدکیلئے استعمال پر نہیں ہوگا،راجہ پرویز اشرف:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 اکتوبر ۔2009ء) وفاقی وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخ میں چھ فیصد اضافہ کا اطلاق 55 لاکھ متوسط صارفین اور زرعی مقاصد کیلئے بجلی پر نہیں ہوگا ۔ پورے پاکستان میں زراعت پر تین روپے فی یونٹ کے حساب سے یکساں شرح سے چارجز وصول کئے جاتے ہیں ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں حمیر حیات روکھڑی ، حنیف عباسی ، چوہدری سعود مجید ، طاہر اورنگزیب اوردونیا عزیز کے میانوالی پنجاب میں زراعت کیلئے بجلی کے کنکشنوں کے نرخوں پر سبسڈی واپس لینے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایا کہ 2007ء کے بعد ملک بھر میں زراعت کیلئے بجلی کے کنکشنوں پر سبسڈی یکساں ہے ، زرعی نرخ پر پورے پاکستان میں سبسڈی ہے ، واپڈا اور پیپکو جب ایک تھا تو اس وقت ٹیرف میں فرق تھا ، زرعی شعبہ سے تین روپے فی یونٹ کے حساب سے طے شدہ بل لیا جاتا ہے ، ایک سوال کے جواب میں پرویز اشرف نے کہا کہ زراعت میں میانوالی کو دی جانیوالی مراعات 2007ء میں ختم کی گئیں ، سندھ اور پنجاب میں چار روپے فی یونٹ پر ایک روپے فی یونٹ سبسڈی دی گئی ہے ، اب یہ تین روپے فی یونٹ ہے، اس سے پہلے یہ فی یونٹ دو روپے 48 پیسے فی یونٹ چارج تھے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ بجلی کے نرخ میں جو چھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ، اس کا اطلاق55 لاکھ متوسط صارفین زراعت کے مقاصد کیلئے بجلی کے استعمال پر نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم سبسڈی سے پاک پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

08/10/2009 19:09:03 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے