اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

وفاقی وزیر کا پانچ سو میگاواٹ کے اضافے سے لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں بہتری کا دعویٰ:
لاہور+اسلام آباد+کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24جولائی ۔2009ء)پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ سسٹم میں مزید پانچ سو میگا واٹ بجلی شامل ہونے سے لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں بہتر ی آئی ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے تقریباً تمام پلانٹ کام کر رہے ہیں اور بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے درآمد کیے جانے والے جنریشن پلانٹ رواں سال کے اختتام تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ ملک میں بجلی کی کھپت اور پیداوار کا فرق ڈھائی ہزار میگا واٹ سے تین ہزار میگا واٹ تک رہا ہے۔ اس کے باوجود کہیں زبردستی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی۔ بجلی پیدا کرنے والے تمام پلانٹ کام کررہے ہیں صرف ایک دو خراب ہیں“ دسمبر تک ملک میں لوڈ شیڈنگ خاتمہ کر دیا جائیگا جبکہ موسم میں تبدیلی نے لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کوئی خاص فرق نہیں ڈالا۔ حبس اور گرمی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا۔ کاروبار زندگی معطل ہے جس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں بارش کے بعد شہر اور دیگر علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی معطل رہی۔ بجلی کے موجودہ بحران کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے خصوصی وزارتی کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اْنھوں نے بتایا کہ اضافی بجلی میں تین سو میگاواٹ آئی پی پیز”انڈپینڈنٹ پاور پروڈیسرز“ ایک سو میگا واٹ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اور ایک سو میگا واٹ جینکو سے آئی ہے۔ اْنھوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے تقریباً تمام پلانٹ کام کر رہے ہیں اور بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے درآمد کیے جانے والے جنریشن پلانٹ رواں سال کے اختتام تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اورعوام کی شکایات پر اضافی بلوں کو روکنے کے لیے ایک جدید” کمپیوٹررائزڈ“ نظام بھی وضع کیا گیا ہے جس کے بعدصارفین کے غلط یا اضافی رقوم کے بل بھیجنا ممکن نہیں ہوگا ۔اْنھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بجلی کے ٹاور ز ”کھمبوں“ آٹھ مرتبہ دھماکہ خیز مواد سے اْڑا گیا ہے جس کی وجہ سے مجبوراً لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے اورعوا م کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وفاقی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ ملک کے کن علاقوں میں بجلی کے ان کھمبوں کونشانہ بنایا گیاہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حبس کے دنوں میں بجلی کی مانگ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اس لیے اْنھوں نے عوام سے رات کے ابتدائی گھنٹوں میں بجلی کم خرچ کرنے کی اپیل کی ہے۔گرمی میں شدت کی وجہ سے ان دنوں بجلی کی پیدوار اور طلب میں بڑھتے ہوئے فرق سے طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ملک میں بجلی کی کھپت اور پیداوار کا فرق ڈھائی ہزار میگا واٹ سے تین ہزار میگا واٹ تک رہا ہے تاہم اس کے باوجود کہیں زبردستی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں ایسے حادثے ہوئے ہیں جس وجہ سے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہاکہ بجلی پیدا کرنے والے تمام پلانٹ کام کررہے ہیں صرف ایک دو خراب ہیں‘ بجلی پیدا کرنے کے لئے پوری صلاحیت سے کام کررہے ہیں‘ دسمبر تک ملک میں سارے پلانٹ آ جائیں گے‘ ہر شہری چاہتا ہے کہ جلد از جلد اس مصیبت سے نکلیں‘ دسمبر تک ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا جائے گا‘ صارفین بھی بجلی بچانے میں بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے کہاکہ جس بحران سے ہم گزر رہے ہیں اب ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں حتی المقدور کوشش کررہے ہیں کہ ہم اس بحران سے جلد از جلد نکلیں۔ جمعرات کو تمام آئی پی پیز کی ملاقات صدر سے ہوئی ہے اور جو لسٹ میں نے شائع کی تھی اس کے ایک ایک مالک اور سپانسر سے سوال کیا گیا کہ آپ بتائیں کہ اس تاریخ پر کام شروع کرنے کے لئے آ رہے ہیں جس کی انہوں نے یقین دہانی کرائی اور کہاکہ دسمبر تک تمام پلانٹس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 23 جون سے 23 جولائی تک ملک بھر میں بجلی کے آٹھ کھمبوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے اور جب ماہرین مرمت کے لیے گئے تو وہاں دوبارہ دھماکے ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعات کہاں پیش آئے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں بلوچستان کے متعدد علاقوں خصوصاً کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں بجلی کے کھمبوں کو دھماکے سے تباہ کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ دوسری جانب بجلی کے اس بحران پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران واپڈا کے دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا۔ادھر وسطی پنجاب میں ہونے والی حالیہ بارشوں سے موسم اگرچہ کافی خوشگوار ہو گیا ہے اور تپش کے علاوہ حبس میں بھی کمی نے گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے بے حال شہریوں کو راحت بخشی ہے لیکن موسم کی اس تبدیلی نے لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کوئی خاص فرق نہیں ڈالا ہے۔ لاہور میں چند پوش علاقوں میں ضرور لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں دو تین گھنٹی کی کمی ہوئی لیکن شہر کے اکثر علاقوں میں لوڈشیڈنگ اپنے پرانے حساب سے ہوتی رہی۔ کچھ علاقوں میں آٹھ اور کچھ میں دس گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ رہی جبکہ بارش کے سبب بجلی کے نظام میں خرابی سے نشیبی اور اندرون شہر کے کچھ علاقوں میں کافی دیر بجلی کی فراہمی معطل رہی۔پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں بھی جمعہ کو موسم کافی خوشگوار رہا تاہم وہاں بھی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ جڑانوالا روڈ پر کچھ آبادیوں میں بارش کے سبب رات کو بجلی کا نظام خراب ہونے سے زیادہ دیر بجلی غائب رہی۔گوجرانوالا میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں تو کمی دیکھنے میں نہیں آئی تاہم گوجرانوالا کے ایک رہائشی محمد بشیر کے مطابق’موسم نے یہ اثرات چھوڑے کہ وہ بجلی جو بناء کسی اوقات کار کے کئی کئی گھنٹے غائب رہتی تھی موسم بہتر ہونے سے ایک نظام الاوقات کے تحت جانے لگی اور اب ہمیں لگتا ہے کہ بجلی گئی ہے تو آ بھی جائے گی‘۔ کراچی سے بیورو رپورٹ کے مطابق کراچی میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی ہلکی بارش کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ تاہم کے ای ایس سی کے ترجمان کے مطابق یہ تعطل لوڈشیڈنگ کا نتیجہ نہیں ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ترجمان عائشہ اعرابی کے مطابق شہر کے گیارہ سو میں سے سات فیڈرز ٹرپ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے گذری، لیاری، گلشن حدید، اورنگی ٹاوٴن اور صنعتی علاقے سائیٹ میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ان کے مطابق کے ای ایس سی کا عملہ تنصیبات میں پیدا ہونے والے نقائص کو دور کرنے کے لئے کام کررہا ہے اور جلد ہی ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کردی جائے گی۔انہوں نے دعوی کیا کہ جمعہ کوشہر میں بجلی کی طلب نو سو پینتالیس میگاواٹ ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے تاہم صدر سمیت شہر کے تقریباً تمام علاقوں سے بجلی کی دو سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی اطلاعات مل رہی ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں بجلی کی مانگ پندرہ ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہے جبکہ اس وقت بارہ ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی دستیاب ہے۔ بجلی کے اس بحران پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران واپڈا کے دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ ایک ریل گاڑی کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔یاد رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے روکنے کے لیے جاری کیا جانے والا عبوری حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے بجلی کی نرخوں میں معقول حد سے زائد اضافے پر عدالت اس معاملے میں مداخلت کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“ کو سپریم کورٹ ہدایت کی بجلی کی قیمت کے تعین کے فارمولے سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

24/07/2009 20:07:15 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے