اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

جنوبی پنجاب زرعی مرکز ہے ، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ، پرویز اشرف ،مشرف پانچ سال کیلئے منتخب ہوئے  پیپلز پارٹی نے چلتا کیا  الزام تراشی بند کی جائے  صحافیوں سے گفتگو:
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30اگست۔2009ء)وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں لوڈ شیڈنگ سے زیادہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ مشرف پانچ سال کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں چلتا کیا۔ بغیر تصدیق ایوان صدر پر الزام تراشی نہ کی جائے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نیپرا کرتا ہے۔ واپڈا کا کوئی اہلکار اوور بلنگ کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام اسلام آباد سے ملتان پہنچنے پر ائیرپورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنوبی پنجاب زرعی مرکز ہے اور یہاں پر لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری اولین ترجیح یہاں پر موجود واپڈا گرڈ سٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ نئے پراجیکٹ بھی لگائے جائیں گے۔ تاکہ اس خطے کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائے جائے۔ کیونکہ زراعت ہماری ریڈ کی ہڑھی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے زرعی ضرورت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومت نئے پراجیکٹ بنا رہی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ حکومت ہائیڈل اور کوئلہ پر بجلی حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بندہ کر رہی ہے۔ اس وقت ایسے متعدد پراجیکٹ پر کام تکمیل کے مراحل میں ہے جس سے ہم اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کر سکیں گے۔ اگرچے اس عمل سے ہمیں ایک روپیہ فی یونٹ اضافی ادا کرنا پڑے گا۔ تاہم بجلی کا حصول ممکن ہو پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ دسمبر تک لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی اور ہم ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر مملکت آصف علی زرداری ان کوششوں میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر شہروں اور دیہی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو رینٹل پاور پراجیکٹ حاصل کئے ہیں ان سے تین سے 5 سال کا معاہدہ ہوتا ہے۔ اور ہم ان سے تین سال کا معاہدہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران ہم اپنے انفراسٹریکچر کو بہتر کریں گے۔ ملک میں موجود پاور سٹیشن کی اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے۔ جبکہ دیگر ہائیڈل اور کوئلہ پراجیکٹ پر کام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ انہوں نے اس سوال پر کہ میاں نواز شریف کیخلاف منظم طریقے سے میڈیا ٹرائل کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ جس کا الزام صدر مملکت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ کہ جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ تصدیق کے بغیر ایوان صدر پر الزام تراشی نہ کی جائے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ رینٹل پاور سے بجلی مہنگی حاصل ہو رہی ہے۔ تاہم عام اور غریب آدمی اور کم استعمال کرنے والے پر اس کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ اور یہ رینٹل پاور کا عمل کم سے کم وقت کیلئے ہوگا۔ سابق صدر مشرف کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ جس نے پانچ سال کیلئے منتخب ہونیوالے صدر کو نہ صرف وردی چھوڑنے پر بلکہ صدارت کی کرسی بھی چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اور یہ ہماری جمہوری فتح ہے۔ ہر کام کا وقت ہوتا ہے۔ بے وقت کام کرنے کا فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ کریڈیٹ پیپلزپارٹی کی حکومت کو جاتا ہے کہ جس نے رائے عامہ کو ہموار کیا۔ ملک کی تمام سیاسی‘ مذہبی جماعتیں اور عوام حکومت کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شانہ بشانہ ہیں۔ جو جمہوری حکومت کا بہتر کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مطمئن رہیں۔ کم سے کم وقت میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کریں گے۔ فیصل صالح حیات کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فیصل صالح حیات نے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر بات کی تھی اور اس کا جواب فلور پر دے دیا گیا تھا۔ چوہدری نثار کی طرف سے کرپشن کی بات کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک اینکر پرسن کے الزامات کے حوالے سے چوہدری نثار نے بات کی تھی جس پر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ فاٹا میں انتظامی یونٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں اس ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم سرائیکی صوبہ یا دیگر صوبوں کے قیام کے حوالے سے ابھی وقت بہتر نہیں ہے۔ پاکستان مشکل ترین حالات میں ہے۔ بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لئے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم صوبائی خود مختاری کے حوالے سے بلوچستان ہو یا دیگر صوبے ہوں صوبائی حکومتوں سے مشاور کے بعد حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ کے ای ایس سی بجلی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 18ٹاؤن ہیں جن میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں اور وہاں پر بحران پر قابو پانے کیلئے حکومتی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں

30/08/2009 21:11:51 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے