اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ساڑھے تیرہ ہزار میگاواٹ کا تین سالہ منصوبہ تیار:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7جولائی ۔2009ء) حکومت نے ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے 3 سالہ پروگرام کے تحت بجلی کی پیداوار میں 13500 میگاواٹ تک اضافے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت رواں سال 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے آئندہ سال لوڈشیڈنگ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 2012ء تک بجلی کی پیداوار میں ساڑھے تیرہ ہزار میگاواٹ اضافے کی اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے یہ بجلی نجی پاور کمپنیوں‘ رینٹل منصوبوں اور شوگر ملز و ٹیکسٹائل ملوں کی طرف سے پیدا کی جائے گی جبکہ واپڈا اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائے گا جس سے 300 میگاواٹ پیداوار بڑھ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پاور پلانٹس سے بھی 502 میگاواٹ بجلی اضافی حاصل کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نندی پور میں 2011ء تک ایک منصوبہ لگایا جا رہا ہے جس سے 1050 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ توانائی کے متبادل ذرائع سے بھی 8936 میگاواٹ بجلی 2012ء تک حاصل کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لئے وزارت پانی و بجلی نے خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے جو مسلسل نگرانی کرے گی۔ ان منصوبوں میں اکثر تھرمل منصوبے ہیں جہاں تیل اور گیس کے استعمال سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومتی حکمت عملی کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو گا انہوں نے کہاکہ رواں سال بجلی کا شارٹ فال 2400 میگاواٹ تک ہے جو گزشتہ سال جولائی میں 4100 میگاواٹ تھا۔ ذرائع کے مطابق طویل مدتی منصوبوں کے تحت دیامر بھاشا ڈیم سے 4500 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ داسو میں ایک منصوبے سے 4000 اور بونجی منصوبے سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔

06/07/2009 13:57:18 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے