اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

لاہور سمیت صوبے کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج اور مظاہرے، تاجر بھی سراپا احتجاج بن گئے، ہر قسم کے کاروبار اور معمولات زندگی معطل، جھنگ میں پرتشدد مظاہروں میں ٹرین کی تین بوگیوں کو آگ لگا دی گئی، توڑ پھوڑ، واپڈ ہاؤس سمیت دیگر املاک نذر آتش، پولیس کی ہوائی فائرنگ، دس مظاہرین گرفتار، شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال:
لاہور +جھنگ +سرگودھا +بورے والہ +گجرات +ملتان (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21جولائی ۔2009ء) پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت صوبے کے شہروں ،قصبوں اور دیہات میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تک، بجلی کی اعلانیہ ،غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر شدیداحتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ پنجاب کے زیادہ ترشہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پرتاجر اور شہری سراپا احتجاج بن گئے اور ہرقسم کے کاروباراور معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ جھنگ میں بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف پرتشدد مظاہروں میں ٹرین کی تین بوگیوں کو آگ لگا دی گئی اورتوڑ پھوڑ کے واقعات میں واپڈ ہاؤس سمیت دیگر املاک کو نذر آتش کر دیا گیا ،پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی اور دس مظاہرین کو گرفتارکر لیا ۔ شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جھنگ شہر میں سولہ سے سترہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس سے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سرگودھا سے ملتان جانے والی اور ملتان سے سرگودھا آنے والی ٹرینوں کو روک لیا اور ایک مسافروں کو اتار کر ایک ٹرین کی تین بوگیوں کو نذر آتش کر دیا ۔شہری ٹرین کی چھتوں پر چڑھ گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی ۔ اس سے قبل صبح سویرے واپڈا ہاؤس کو بھی آگ لگا دی گئی، مشتعل مظاہرین نے پولیس کی بھی دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں کی جاتی ہے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ جھنگ میں موسم انتہائی گرم ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث شہری رات بھر سو نہیں پاتے جس کے باعث انہیں شدید ذہنی کوفت کا سامناہے ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی اور دس کو گرفتارکر لیا ، واپڈا آفس اور دیگر سرکاری املاک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔لوڈشیڈنگ کے خلاف انجمن تاجران کی کال پر آج حجرہ شاہ مقیم میں مکمل شٹر ڈاوٴن کیا گیا۔ تاجر رہنماوٴں کی قیادت میں شہریوں نے احتجاجی جلوس نکال جو حویلی روڈ سے شروع ہوکر مین بازار ، چونیاں روڈ چوک ، قلندری گیٹ سے شاہ مقیم چوک تک گیا جہاں مظاہرین نے ٹائر جلا کر مین شاہراہ کے علاوہ رابطہ سڑکیں بھی بند کردیں۔ راستے میں گرڈ اسٹیشن اور واپڈا کے دو دفاتر کے گیٹ پھلانگ کر مظاہرین اندر داخل ہوگئے۔ چند مظاہرین نے زکریا ٹاوٴن میں واقع واپڈا آفس میں گھس کر سرکاری ریکارڈ کو آگ لگادی۔ عوام کا شدید غم وغصہ دیکھ کر پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنا پڑی جس پر مظاہرین اور مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پتھراوٴ شروع کردیا۔ مظاہرین ایس ڈی او دفتر کا ریکارڈ ضائع کرنے کے بعد ایکسیئن کے دفتر میں داخل ہوگئے اور وہاں سے کمپیوٹرز سمیت سرکاری سامان کو باہر رکھ کر آگ لگادی۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں آسکی،ہرگھنٹے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک متواترلوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔اس صورتحال پر شہریوں نے شدید غم وغصے کااظہار کیاہے لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے شہریوں کا کہناہے کہ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن گئی ہے ۔پیپکو پر اب احتجاج کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا ،ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجودلیسکو سمیت کسی ڈسٹری بیوشن کمپنی نے شیڈول جاری نہیں کیا ۔اس صورتحال میں صارفین کونہ دن کو چین ہے نہ رات کوسکون ۔ مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی فراہمی بھی اکثر علاقوں میں معطل ہوکررہ گئی ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف پنجاب میں تاجروں کی طرف سے ہڑتال کی گئی ۔پیپکو حکام نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر انفرادی فالٹ کی وجہ سے بجلی زیادہ دیر کے لیے بند ہوسکتی ہے تاہم مجموعی طورپرصورتحال تسلی بخش ہے۔ سرگودھا میں تاجروں اورشہریوں نے مظاہروں کے دوران ٹائرجلائے اوردھرنا دے کرسڑک بلاک کردی۔ سینکڑوں افرادنے ایکسئین کے دفتر پر دھاوابول دیااورتوڑپھوڑکی۔ٹرانسپورٹ کی بھی جزوی ہڑتال رہی جس دوران مسافروں اور شہریوں کوشدید پریشانی کا سامناکرنا پڑا۔جھنگ میں مظاہرین نے توڑپھوڑ اور گھیراوٴجلاوٴ کیا اورایک ٹرین کو روک کراس کی تین بوگیوں کو آگ لگا دی گئی۔چنیوٹ میں مظاہرین کوگرڈسٹیشن جانے سے روکنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی۔مظاہرین نے ٹائرجلا کرسرگودھا فیصل آبادروڈ بلاک کردی۔حجرہ شاہ مقیم میں مظاہرے کے شرکا نے واپڈا کے دفتر پر دھاوابول دیا،اورآفس ریکارڈ اورسامان کوآگ لگا دی۔گجرات میں تاجروں نے وفاقی وزراچودھری احمد مختار اور قمرالزمان کائرہ کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال نہیں کی اورتمام کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں۔عارفوالا میں تاجروں نے مظاہرے کیے اورٹائرنذرآتش کیے۔مظاہرین حکومت اورواپڈا کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔شیخوپورہ میں لوڈشیڈنگ کے خلاف شہر میں مکمل شٹرڈاوٴن ہڑتال ہے اور مظاہرے کیے جارہے ہیں۔چیچہ وطنی میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔منڈی احمد آباد میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کے شرکا حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے اورواپڈا کو بددعائیں دیتے رہے۔دیپالپور میں مظاہرین نے حکومت اور واپڈا کے خلاف سینہ کوبی کی ،جس کے دوران واپڈا ملازمین دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔قصور،حافظ آباد،گگو منڈی،پسرور،چونیاں ،نورپورتھل،کروڑلعل عیسن،پنڈی بھٹیاں میں بھی مکمل شٹرڈاوٴن ہے اورمظاہرے کیے گئے ۔

21/07/2009 19:46:49 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے