اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

ملک میں بھر میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری  عوام بلبلا اٹھے  اعلانات کے باوجود کوئی بھی عوام کی مشکلات کم نہ کر سکا  کئی شہروں میں مظاہرے ، بجلی کے تعطل کی وجہ سے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی  بجلی کی آنکھ مچولیاں گھروں میں برقی آلات بھی جل گئے:
کراچی +لاہور+کوئٹہ+پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28جون۔2009ء)ملک میں بجلی کا بحران برقرار ہے، شدید گرمی میں طویل لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے اور کوئی انہیں اس عذاب سے نجات دلانے والا نظر نہیں آتا۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بجلی کی صورتحال میں بہتری کیلئے کئی مرتبہ ہنگامی اقدامات کے اعلانات کئے مگر کوئی اعلان بھی عوام کی مشکلات کم نہیں کرسکا ۔ بجلی کی فراہمی کے ذمے دار اداروں کی انتظامیہ پر حکومت کی سخت ہدایات کا کوئی اثر نہیں ہورہا ۔لاہور میں غیرا علانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ سے سولہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔پشاور میں8سے10گھنٹے جبکہ کراچی اور کوئٹہ میں6 سے8گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ بجلی کے تعطل کی وجہ سے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے اور گھروں میں برقی آلات بھی جل گئے ہیں۔پنجاب بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے مطابق صورتحال میں فوری تبدیلی کا امکان کم ہے۔ پیپکو کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی طلب اور رسد کا عدم توازن چارہزار میگا واٹ ہے۔ پنجاب میں یہ عدم توازن پچیس سو میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے، گیپکو آٹھ سو میگا واٹ کے ساتھ سر فہرست ہے جبکہ لیسکو ریجن میں سات سو اور فیسکو میں چھ سو اسی میگا واٹ کی کمی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی بندش کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں انجمن تاجران اور دیگر تنظیموں نے حکومت کو ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں درجہ حرارت بیالیس ڈگری سینٹی گریڈ ہونے کے نتیجے میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔لاہور میں اس وقت سولہ گھنٹے، ملتان کے شہری علاقوں میں دس سے بارہ اور دیہی میں سولہ سے بیس، فیصل آباد دس سے سولہ جبکہ صنعتی یونٹوں میں چھ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ سیالکوٹ اورگوجرانوالہ کے شہری علاقوں میں دس سے بارہ اور دیہی میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ بہاولپور ، ساہیوال، اوکاڑہ، منڈی بہاوٴالدین، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، حافظ آباد، وزیرآباد، ملکوال، اخترآباد،دنیاپور،کامونکی،کمالیہ،چیچہ وطنی سمیت دوسرے شہروں میں لوڈشیڈنگ اور گرمی کی شدت سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔بجلی کی بندش سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں بعض علاقوں میں پانی کی سپلائی بھی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ لاہور ، ملتان ، بہاول پور اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے بجلی کی عدم فراہمی پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مظاہروں کے بعد واپڈا کی تنصیبات پر سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ چھ سے آٹھ گھنٹے ہے۔ شہر میں تین دن پہلے ہونے والی ہلکی بارش کے باعث پیدا ہونے والے کیبل فالٹس اب تک مکمل طور پر درست نہیں کیے جاسکے۔کئی علاقوں میں گزشتہ روز چھبیس گھنٹے بعد بجلی بحال ہوئی تھی۔ڈیفنس فیز فائیو بدر کمرشل کے مکینوں نے بجلی کے طویل تعطل پر کے ای ایس سی کے خلاف احتجاج کیا اور ٹائر جلائے ۔ پشاور کے شہری علاقوں میں آٹھ سے دس اور دیہی علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے پانی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرگیا ہے ۔بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث برقی آلات بھی ناکارہ ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں عوام کو بارہ سے سولا گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ کوئٹہ میں 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے

28/06/2009 21:13:24 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے