اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، عبدالستارایدھی:
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اپریل ۔2009ء) ڈاکٹر عبدالستارایدھی نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بجلی کا بحران اورلوڈشیڈنگ کاسلسلہ چل رہا ہے جس کاخمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے نہ تو حکومت کی جانب سے اس جانب سنجیدگی سے توجہ دی جارہی ہے اورنہ ہی عوام اورکاروباری لوگوں کی جانب سے بجلی کی بچت کیلئے کچھ کیاجارہا ہے حکومت کی جانب سے سارے پاکستان میں گھڑیوں کاوقت ایک گھنٹہ بڑھا کربجلی کی بچت کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کاروباری اداروں ،دوکانداروں کی جانب سے اس پر کوئی عمل نہیں کیاجاتاہے دکانیں وہی دیر سے کھلتی ہیں اوردیر سے بند ہوتی ہیں کوئی پابندی کرنے کو تیارنہیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صنعتی کارخانے ہوں،کارخانے ہوں، کاروبارہوں یادکانیں ہوں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری کرنا عام طریقہ کار بن چکاہے صاحب ثروت لوگوں کے علاقوں گھر کے ہراستعمال کی اشیاء بجلی کی مرہون منت ہے اوروہاں کم سے کم لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے تاکہ ان کے آرا م میں خلل نہ ہو لوڈشیڈنگ کاسارابوجھ غریب علاقوں میں جہاں روزانہ 12گھنٹے بجلی کی بند کی جاتی ہے جہاں ضرورت کیلئے صرف چند بلب یاپنکھے چلتے ہیں میری اپیل ہے کہ اس ضمن میں عوام کے غیض وغضب کو دعوت نہ دیں ورنہ پھر اس سے بچانے والاکوئی نہیں ہوگا۔

20/04/2009 15:15:40 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے