اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

مشرف فارم ہاوس، سستی بجلی کی فراہمی پر چیف جسٹس کا نوٹس:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23جون ۔2009ء) سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف سمیت اسلام آباد کے چک شہزاد کے علاقہ میں زرعی فارموں کو رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے معاملہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) سے 15 دنوں میں جواب طلب کرلیا۔ منگل کو عدالت عظمیٰ نے ایک اخبار میں سردار خان نیازی کے ایک کالم پر یہ حکم صادر کیا ہے 25 مئی 2009ء کو شائع ہونے والے کالم میں بتایا گیا تھا کہ یہ فارم ہاؤس دراصل اسلام آباد کے شہریوں کو سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کے لئے قائم ہوئے تھے لیکن وفاقی دارالحکومت کے کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان زرعی فارموں پر عالیشان بنگلے تعمیر ہو رہے ہیں۔ عدالت کے حکم پر آئیسکو نے رپورٹ دی تھی کہ چک شہزاد میں واقع229 زرعی فارموں میں 557 بجلی کے کنکشن فراہم کئے گئے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے ملکیتی سی 1 (بی) پارک روڈ‘ میں زرعی فارم کو دسمبر 2003ء میں بجلی کا کنکشن دیا گیا تھا۔ یہ کنکشن 25 کے وی اے ٹرانسفارمر اور منسلکہ لوازمات کی لاگت 75 ہزار 579 روپے کی مکمل ادائیگی کے بعد 20 ایچ پی موٹر بجلی کی ضرورت کے عوض دیا گیا۔ بجلی کنکشن کی تنصیب کے وقت یہ 40 کنال کا خالی پلاٹ تھا اور اس وقت اس پر کوئی تعمیرات نہیں تھیں۔ 25 فروری 2009ء کو 17 کلو واٹ سے بڑھا کر 70 کلو واٹ بجلی فراہمی اور ٹیوب ویل کنکشن سے گھریلو کنکشن میں تبدیلی کی درخواست موصول ہوئی تھی جس پر صارف کی جانب سے ادائیگی کے بعد ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا گیا۔ چیئرمین آئیسکو نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ چک شہزاد میں واقع زرعی فارموں کو بجلی کے کنکشن اور تنصیب کو مکمل پڑتال بشمول عملی اور فنی اعتبار سے جانچ کے بعد ایم ڈی پیپکو کی طرف سے تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی دیکھتی ہے۔ اب تک فنی نوعیت اور ٹیرف میں فرق کی نشاندہی ہوئی ہے اور کمیٹی کی جانب سے جامع رپورٹ آنے کے بعد اس معاملہ کے حل کے لئے درستگی کے اقدامات شروع کئے جائیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے آئیسکو کو 15 دن کے اندر تمام تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔

23/06/2009 18:10:58 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے