اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم یا بجلی کی یقینی فراہمی کا شیڈول جاری کیا جائے ،تاجروں کا کے ای ایس سی سے مطالبہ:
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18مئی ۔2009ء)کراچی کے تاجروں نے KESCکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم یا بجلی کی یقینی فراہمی کا شیڈول جاری کیا جائے تاکہ کاروبار کے اوقاتِ کار بجلی کی دستیابی کے مطابق متعین کیئے جاسکیں، دن میں 60فیصد سے زائد کاروباری اوقات کار لوڈشیڈنگ کی نذر ہورہے ہیں، کاریگر طبقہ دن بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھا رہتا ہے، آرڈرز کے مال کی بروقت ڈلیوری مشکل ہوگئی ہے،مال کے 30فیصد سے زائد آرڈرز تاخیر کے باعث کینسل ہورہے ہیں، شہر میں لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوتے ہی بازار سنسان اور کاروبار ویران ہوگئے ہیں ، اخراجات میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیاں 40فیصد تک محدود ہونے سے تاجر طبقے کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے، الائینس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز کراچی کے چیئرمین عتیق میر نے شہر کی مختلف مارکیٹوں کے نمائیندگان سے رابطے کے بعد گزشتہ روز پریس کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں بجلی کے بحران کے نتیجے میں پیدہ ہونے والی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے اذیتناک گرمی میں اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو KESCکی برقی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جھلستی گرمی میں طویل دورانئے کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر اور کاروبار برباد ہوگیا ہے ،انھوں نے وزیرِ پانی و بجلی کے ایک گذشتہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے جولائی 09 میں بدترین لوڈشیڈنگ کا عندیہ دیا تھا لیکن KESCنے ناقص ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو ماہ قبل ہی گھٹنے ٹیک دیئے ہیں جس سے اگلے مہینوں میں بجلی کے بحران کی شدت اور تاجروں و شہریوں کی مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے،انھوں نے کہا کہ کاروباری مندی اور کساد بازاری میں لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹرز کے استعمال کے اضافی اخراجات تاجروں کیلئے ناقابلِ برداشت ہوگئے ہیں اور تاجروں کو اوسطاً 500تا 1000روپے یومیہ تیل کا خرچ برداشت کرنا پڑرہا ہے جوکہ قومی خزانے پر بھی بوجھ ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹرز سے خارج ہونے والی مہلک گیس کاربن مونو آکسائڈ سے مارکیٹوں کا ماحول آلودہ ہورہا ہے جس سے تاجروں میں سانس اور پھیپھڑے کے امراض جنم لے رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ تاجروں کو بدحواس اور عوام کی نیندیں حرام کرکے KESCکی انتظامیہ اپنی کارکردگی کے گمراہ کن اشتہارات شائع کروارہی ہے اور خود کو رفاہی ادارہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، انھوں نے ابراج گروپ اور اسکے شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ادارہ بجلی کی پیداواری اور انتظامی ذمے داریاں ڈھنگ سے ادا کرے ، موجودہ حالات میں کراچی کے تاجروں اور عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی سے زیادہ بہتر فلاحی کام کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ، انھوں نے بجلی کے بحران کے ہاتھوں بدحواس تاجروں اور شہریوں کی مشکلات کی جانب حکومتی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ حکمران اپنی آسائشوں اور بدمستیوں سے تھوڑا وقت نکال کر عوام کی اذیت کا بھی احساس کریں۔

18/05/2009 14:19:53 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے