اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

ایم کیو ایم نے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دیدی:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18جون۔2009ء) سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے بجلی کے طویل بریک ڈاؤن پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کرتے ہوئے معاملات کو درست کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دیدی- جمعرات کے روز سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے کراچی اور صوبہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر شدید احتجاج کیا- ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی وفاقی وزیر بابر غوری نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واپڈا کراچی کے حصہ کی بجلی فوری طور پر بحال کی جائے اور اس کے حصہ میں سے کٹوتی بند کی جائے-انہوں نے دھمکی آمیز لہجہ میں حکومت سے کہا کہ اگر بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو واپس لیا گیا تو ہمارے لیے نہ صرف بجٹ میں حکومت کا ساتھ دینا مشکل ہو گا بلکہ ہم حکومت کا حصہ بھی نہ رہ سکیں گے بجلی کے اس بحران کی وجہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ یہ بریک ڈاؤن سندھ میں آنے والے طوفان کے باعث پیدا ہوا کیونکہ اس وجہ سے حب اور دادو کے درمیان میں سپلائی لائن میں خرابی پیدا ہو گئی جس سے پاور سٹیشن بند ہوگئے جن کو بحال کرنے میں وقت لگا حکومت کو اس بحران کا شدت سے احساس تھا- وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ‘ گورنر سندھ اور فاروق ستار ساری رات اس مسئلہ پر رابطہ میں رہے اندرون سندھ کے اضلاع میں 7 بجے تو بجلی بحال ہو گئی تاہم کراچی میں دوبارہ فالٹ آ گیا جس بعد میں دورکر لیا گیا-اس موقع پر سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ریمارکس دیئے کہ بجلی کے معاملات پر پوری قوم کو تحفظات ہیں جن کا دور کیا جانا ضروری ہے-

18/06/2009 16:23:09 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے