اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

تاجر 15اپریل کو گھڑیاں تبدیلی کرینگے نہ بجلی کے اضافی بل ادا کرینگے ، الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز کراچی کا اعلان:
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔14اپریل 2009 ء)الائینس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز کراچی کے چیئرمین عتیق میر نے بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے حکومتی اقدام کو تاجروں اور عوام کے خلاف سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تاجر 15اپریل سے گھڑیوں میں تبدیلی کرینگے نہ بجلی کے اضافی بل ادا کرینگے، تاجر نئے نرخوں پر مشتمل بلوں کو اپنی دکانوں کے دروازوں اور گاڑیوں پر چسپاں کرکے انوکھا احتجاج ریکارڈ کروائینگے، انھوں نے کہا کہ مہنگی اور ناپید بجلی صنعت و تجارت کی تباہی کا سبب بن گئی ہے، موجودہ حکومت نے صرف ایک سال کی مختصر مدت میں بجلی کے نرخوں میں 100فیصد اضافہ کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، انھوں نے شہر کی تمام مساجد ، درس گاہوں، جماعت خانوں ، امام بارگاہوں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے منتظمین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا حکومتی اعلان مسترد کردیں اور دینی، مذہبی اور تعلیمی معاملات کو متاثر کرنے کے بجائے اپنے معمولات موجودہ وقت کے مطابق ہی ادا کریں، انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین سال سے گھڑیاں تبدیل کرنے کا غیر سودمند اور ناکام تجربہ تجارتی، معاشرتی، تعلیمی اور مذہبی معمولات کو درہم برہم کرنے کا سبب بن رہا ہے جبکہ ہر سال لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بحران میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور مقامی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ روکنے کیلئے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور الیکٹریسٹی ٹیرف جولائی 2008کی سطح پر لایا جائے،انھوں نے KESCکی گذشتہ کارکردگی کو بدترین اور اذیتناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کی موجودہ انتظامیہ سفید ہاتھی کا کردار ادا کررہی ہے جوکہ حکومت کو بلیک میل کرکے قومی خزانہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے، انھوں نے نجکاری کا معاہدہ فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ابراج گروپ کے چند افسران نے کراچی کے پونے دو کروڑ عوام کو یرغمال بنالیا ہے، شدید گرمی اور حبس میں10، 10گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں کارخانے بند، کاروباری سرگرمیاں معطل اور رہائش گاہیں عقوبت گاہیں بن گئی ہیں،انھوں نے کہا کہ رواں سال بجلی کی طلب میں 8فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیداوار 1 یونٹ بھی نہ کی جاسکی ، بجلی کی چوری 30فیصد سے بڑھ کر 40فیصد سے تجاوز کرگئی جس کی روک تھام میں ناکام ہوکر موجودہ انتظامیہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کررہی ہے جبکہ بجلی کے غیرمنصفانہ نرخ بجلی چوری میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ہیں ، انھوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا بھونڈا مذاق بند کرکے بجلی کی پیداوار میں اضافہ، نرخوں میں کمی اور ڈسٹری بیوشن میں بہتری کے حقیقی اقدامات کیئے جائیں،انھوں نے کہا کہ گھڑیاں 1گھنٹہ آگے کرنے کا ڈرامہ درحقیقت لوڈشیڈنگ کے بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

14/04/2009 14:29:46 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے