اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کی قیمتوں میں آئندہ ایک سال کے دوران مرحلہ وار 17فیصد اضافہ کیا جائے گا  سیکرٹری خزانہ ، افراط زر میں کمی کے ساتھ شرح سود میں کمی کی جائیگی ، اوسط افراط زر 22 فیصد ہے  گور نر اسٹیٹ بینک:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17جون۔2009ء)سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں آئندہ ایک سال کے دوران مرحلہ وار 17فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ گور نر سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ افراط زر میں کمی کے ساتھ شرح سود میں کمی کی جائیگی ، اوسط افراط زر 22 فیصد ہے  سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر احمد علی کی زیر صدارت ہوا ۔انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ضروری ہے تاہم گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی ۔اجلاس کو دوران اراکین نے تجویز پیش کی کہ ملازمین کی کم از کم تنخواہ سات ہزار کی جائے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اعلان کردہ عبوری ریلیف کے برعکس گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں بیس فیصد اور اس سے اوپر پندرہ فیصد اضافہ کیا جائے ، کمیٹی نے زور دیا کہ سی این جی پر اعلان کردہ کاربن سرچارج فوری طورپر واپس لیا جائے جبکہ پیٹرولئیم مصنوعات پر کاربن سرچارج کے اطلاق کے فارمولے کی وضاحت کی جائے ، کمیٹی نے تجویز دی کہ ریٹیل کی سطح پر مختلف کیٹگریز میں دکانداروں پر انکم ٹیکس عائد کیا جائے ۔اجلاس کے دوران مشیر خزانہ شوکت ترین نے یقین دہانی کرائی کہ برآمدات پر کم از کم ایک فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق کے فیصلے پر نظر ثانی کی جارہی ہے جبکہ کارپوریٹ ٹیکس کو آئندہ سال ایک فیصد کم کیا جائے گا ، کمیٹی نے بجٹ میں اعلان کردہ صنعتی بحالی کے دعوے کو حقیقی شکل دینے کے لئے کاروباری لاگت میں کمی کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا سینیٹر الیاس بلور اور سینیٹر کلثوم پروین نے تجاویز دیں کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں صنعتوں کی بحالی کے لئے ان کے قرضے یا تو معاف کردیئے جائیں یا دو سال کے لئے اس پر انٹرسٹ معاف کردیا جائے جس پر سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس حوالے سے خصوصی ریلیف پیکیج کی تیاری ہورہی ہے جس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران گورنر سٹیٹ بینک سلیم رضا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حجم میں اضافہ ہوا ہے اور گندم کی بمپر فصل کے باعث مقامی منڈی میں زر کے پھیلاوٴ میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے افراط زر میں کمی ہوئی، یہی رجحان رہا تو جولائی میں شرح سود کم کریں گے، انہوں نے بتایا کہ جنوری 2010ء کے بعد مرکزی بینک پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کیلئے زرمبادلہ کی فراہمی بند کر دے گا، انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں کے حجم میں ساڑھے سات کھرب اضافہ ہوا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ وہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں قرضوں پر سود کی معافی کیلئے بینکوں اور حکومت سے جلد بات چیت کریں گے، انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک کو خود مختاری دینے کا بل اگست میں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا، جس کے تحت بورڈ مالیاتی پالیسی طے کرے گا ۔اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے بتایا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے تحت کسی بھی کمپنی کے اہم ترین 3 ڈائریکٹرز کے ذمہ ایک کروڑ روپے کے ٹیکس اور 10 کروڑ روپے کے قرضے واجب الادا ہو جائیں تو ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جا سکتا ہے جس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر ہارون اختر، طلحہ محمود اور اسحاق ڈار نے کہا کہ آج کل ہر کمپنی کے ذمہ بینکوں کے اربوں روپے واجب الادا ہوتے ہیں، اس قانون کے ذریعہ بینکوں کو لامحدود صوابدیدی اختیارات دے دیئے گئے ہیں جس پر گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک نجی بینکوں کو کسی بھی صورت میں کاروباری اور صنعتی شخصیات کو بلیک میل نہیں کرنے دے گی۔ گورنراسٹیٹ بینک سلیم رضا نے کہا کہ افراط زر میں کمی کے ساتھ شرح سود میں کمی کی جائیگی ، اوسط افراط زر 22 فیصد ہے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اگست تک اسٹیٹ بینک سے متعلق نیا قانون پارلیمنٹ میں پیش ہوگا،نئے قانون کے مطابق مانیٹری پالیسی کا تعین خود مختار کمیٹی کریگی۔انہوں نے بتایا کہ جون کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر9ارب ڈالر تک ہوجائیں گے۔اجلاس میں سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ صوبہ سرحد میں متاثرین مالاکنڈ اور دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظرصوبے کے ذمہ بتیس ارب روپے کے قرضے معاف کئے جائیں یا دو سال کے لئے ان پر سود نہ لیاجائے۔ سینیٹر کلثوم نے بھی اس حوالے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، وہاں علیحدگی کی تحریکیں چلنے کا امکان ہے اس لئے بلوچستان کے قرضے بھی معاف کئے جائیں جس پر سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ دونوں صوبوں کے لئے خصوصی پیکج تیار کیا جارہا ہیاور کیری لوگر بل کے زریعے ملنے والی امداد سے ان صوبوں میں صنعتوں اور انفرااسٹریکچر کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔

17/06/2009 22:08:57 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے