اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

300میگاواٹ کے حامل ایٹمی بجلی گھرمرمت کے باوجوددوبارہ چالو نہ ہو سکا:
میانوالی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 17نومبر 2008 ء)300میگاواٹ کے حامل ایٹمی بجلی گھر کی سالانہ مرمت اور گیس کی ری فلنگ کا کام مکمل ہو جانے کے باوجود ایٹمی بجلی گھر چشمہ دوبارہ چالو نہ ہو سکا- ذرائع کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پیپکو اور واپڈا نے کروڑوں روپے کے واجبات پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن آف پاکستان کو ادا کرتے ہیں مگر پیپکو نے اپنے ذمہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن آف پاکستان کے واجب الادا واجبات ابھی تک ادا نہ کئے ہیں جس کے باعث ایٹمی بجلی گھر چشمہ کو چالو نہ کیا جا رہا ہے جس کے باعث پیپکو اور واپڈا کو تین سو میگاواٹ ایٹمی بجلی کی فراہمی معطل ہوئی ہے- ذرائع نے بتایا ہے کہ واپڈا کی جانب سے واجب الادا رقم پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو ادا کر دے گی تو چشمہ ایٹمی بجلی گھر سے دوبارہ تین سو میگاواٹ ایٹمی بجلی کی سپلائی شروع ہو جائے گی اور ایٹمی بجلی گھر دوبارہ چالو کر دیا جائے گا-

17/11/2008 14:00:38 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے