اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

پشاورسمیت صوبہ بھر میں بجلی کی غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کاسلسلہ بدستور جاری ،پیسکوکی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے برعکس شہری علاقوں میں دس گھنٹے جبکہ دیہات میں بارہ سے چودہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12اپریل ۔2009ء)صوبائی دارلحکومت پشاورسمیت صوبہ بھر میں بجلی کی غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کاسلسلہ بدستور جاری ہے جس کے باعث گھریلوں صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد انتہائی پریشانی کے شکار ہوگئے ہیں ۔بجلی کی اس غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث جرنیٹرکی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔،پیسکوکی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے برعکس شہری علاقوں میں دس گھنٹے جبکہ دیہات میں بارہ سے چودہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے ۔بجلی کی اس غیراعلانیہ لوڈشیدنگ سے کاروبازندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے پشاورکے علاقوں ،گلبہار ،نشترآباد ،قصہ خوانی ،خیبربازار،یکہ توت ،زرگر آباد ، نشتر آباد ،کوہاٹی ،نمک منڈی ، کوہاٹ روڈ، ہشتنگری، فقیر آباد، چارسدہ روڈ ، لطیف آباد ، افغان کالونی میں دس گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے ۔اس غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ اکثراوقات ایک گھنٹے میں تین تین مرتبہ بجلی بندکی جاتی ہے۔ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شہریوں نے تشویش کااظہارکرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کامسئلہ فوری حل کیا جائے تاہم اگر اس مسئلے پر قابونہ پایاگیا تواحتجاج کرنے پر مجبورہوکر سڑکوں پر نکلیں گے۔ان کاکہنا تھا کہ سرحد میں پہلے سے امن وامان کامسئلہ ہے زیادہ ترکاروباری مراکز بند ہوگئے ہیں تاہم اب رہی سہی کسر بجلی پوراکررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ اپنے وسائل پر ہمارا حق نہیں بجلی ہماری اپنی ہے اورمزے دوسرے صوبے کررہی ہیں۔

12/04/2009 16:18:47 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے