اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

پشاورسمیت سرحد بھر میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری، پیسکوکی جانب سے5سے 6گھنٹے بجلی لوڈ شیڈنگ کا اعلان:
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22مارچ ۔2009ء) پشاورسمیت سرحد بھر میں بجلی کی غیراعلانیہ ناروالوڈشیڈنگ کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو )نے ملک بھر میں بجلی کی شارٹ فال کی بنا ء پر سرحد بھر میں روزانہ5سے 6گھنٹے بجلی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کر رکھا ہے تاہم پشاور میں سات سے آٹھ مضافاتی اور دیگر علاقوں میں 9سے دس گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جسکی وجہ سے کاروبار ی حضرات کے ساتھ ساتھ میٹرک کے امتحانات کے طلباء کو شدید مشکلاات کا سامنا ہے۔پشاورکے علاقوں،صدر،نوتھیہ،خیبربازار، قصہ خوانی ،یکہ توت ،زرگر آباد ، نشتر آباد ،کوہاٹی ،نمک منڈی ، کوہاٹ روڈ، ہشتنگری، فقیر آباد، گلبہار، چارسدہ روڈ ، لطیف آباد ، افغان کالونی اور دیگر علاقوں میں سات سے آٹھ گھنٹے جبکہ پشاور کے نواحی علاقوں متھرا،خزانہ ، ارمڑ ، ماشوخیل، بڈھ بیر اور دیگر علاقوں میں شہری علاقوں سے ذیادہ بجلی بند کی جاتی ہے ۔ پشاور کے علاوہ چارسدہ ، مردان ، صوابی ، نوشہرہ ، بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے جہاں ایک طرف کاروبار متاثر ہورہا ہے وہاں میٹرک کے امتحانات کے دوران طویل لوڈ شیڈنگ سے طلباء بھی شدید مشکلات کا شکار ہے پشاور میں میٹرک کے امتحانات 17مارچ سے شروع ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف صوبہ بھر میں اول سے لیکر آٹھویں جماعت تک کے امتحانات بھی شروع ہو چکے ہیں پشاور میں طویل اور غیر اعلانیہ بجلی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے طلباء کو امتحانات کی تیاریوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور بچے موم بتیاں جلا کر پڑھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یسکو حکام کے مطابق صوبہ سرحد کو موجودہ وقت میں پانچ سو میگا واٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ موقف اختیار کیا ہے کہ تربیلاڈیم میں پانی کی سطح 1369فٹ کے ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے بجلی کے پیداوار میں کمی آئی ہے اور بجلی کی پیداوار 11ہزار میگا واٹ تک رہ گئی ہے ۔ دوسری جانب سے بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اورصوبہ سرحد میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث بیشترکارخانے بند ہوچکے ہیں ۔سرحدچیمبر ذرائع کے مطابق سرحدمیں کل2254کارخانے موجودہے جس میں صرف 594کارخانے چالو ہے باقی تمام کے تمام بند ہوگئے ہیں ۔ سرحد میں امن وامان کی بگڑی ہوئی صورت حال اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث پہلے سے انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے جبکہ اب نئی شیڈول جاری کردیاگیا ہے جس سے باقی کارخانے بھی بند ہوجائیں گے اوریا اس میں ڈبل شفٹ ختم کیاجائیگا جس سے باعث سینکڑوں ملازمین بے روزگاری ہوجائیں گے۔صنتعی برادری نے حالیہ لوڈشیڈنگ شیڈول پر شدید غم وغصے کااظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انڈسٹریل ایریا کولوڈشیڈنگ سے مستشنی قراردیاجائے۔ حیات آباد،کوہاٹ،حطار سمیت دیگر انڈسٹریز پہلے سے بند ہوچکے ہیں جبکہ اب صرف594کارخانے چالو ہیں اگر صورت حال اسی طرح رہی تویہ بھی بند ہوجائیں گے اوربے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا

22/03/2009 14:57:00 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے