اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کی مقامی طلب میں سالانہ 200میگاواٹ کا اضافہ ، لوڈ شیڈنگ بڑھنے کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے طور پرصارفین نے جنریٹرز اور یو پی ایس کی خریداری شروع کردی:
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21مارچ ۔2009ء)کراچی میں ہر سال بجلی کی طلب میں 200 میگاواٹ کا اضافہ ہورہا ہے۔ آنے والے برسوں میں شہری لوڈشیڈنگ کے جس بدترین عذاب کا سامنا کریں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔کراچی میں اس وقت بجلی کی طلب2000 میگاواٹ ہے جو گرمیوں میں 2500 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی اور فی الحال 250 سے 300میگاواٹ کی جو قلت ہے وہ بڑھ کر500 سے 600 میگاواٹ تک ہوجائے گی۔ ان دنوں80 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے والا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا کوجین پلانٹ بند ہے۔ بن قاسم پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت تو1150 میگاواٹ ہے تاہم اس سے800 سے 850 میگاواٹ بجلی فراہم ہورہی ہے۔ کورنگی تھرمل پاور اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت130 میگاواٹ ہے۔ تاہم یہ بھی80 میگاواٹ بجلی ہی فراہم کررہا ہے۔ اتنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معصوم بچے ہیں، بزرگ ہیں، خواتین ہیں کہاں جائیں، یو پی ایس اور جنریٹرز خریدنے کی طاقت نہیں۔کراچی میں پہلی بار سردیوں میں بھی لوڈشیڈنگ ہوئی۔ چند برس قبل الجماعیہ کمپنی کو کے ای ایس سی کی فروخت کے وقت نئے پاور پلانٹس کیلئے 400 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ اب ابراج انویسٹمنٹ کمپنی نے کے ای ایس سی کو خریدا تو بھی یہی دعوے ہوئے ہیں تاہم صورتحال یہ ہے کہ شہری خوش ہیں اور نہ ہی ملازمین۔ شہریوں کے مطابق لوڈشیڈنگ نے زندگی مفلوج کردی ہے۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں اور ان حالات کے ذمہ دار حکمران ہیں جو ہمارے اوپر بیٹھے ہیں یہ ساری پریشانی ان کی دی ہوئی ہے۔ ہم کیسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں حکمران ہماری بنیادی ضروریات ہمیں فراہم نہیں کرسکتے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ نے امتحانات کی تیاریوں میں مصروف طلبا و طالبات کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے، بجلی کے بحران کی بڑی وجہ نئے پیداواری یونٹس کیلئے سرمایہ کاری کا نہ ہونا ہے۔ گزشتہ برس بدترین لوڈشیڈنگ پر ملک کے مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے اور بدقسمتی سے آنے والے دنوں میں بھی حالات میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آرہے۔دوسری جانب ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوتے ہی مختلف شہروں میں جنریٹرز اور یو پی ایس کی فروخت بڑھ گئی۔ ایک سروے کے مطابق صارفین نے آئندہ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ بڑھنے کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے طور پر جنریٹرز اور یو پی ایس کی خریداری شروع کردی ہے اس وقت چونکہ ان کی قیمتیں کم ہیں اس لئے صارفین گرمیوں کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی جنریٹرز اور یو پی ایس خرید رہے ہیں کیونکہ بعد میں ان کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ملک کو بجلی کی 2500 میگاواٹ کمی کا سامنا ہے اور اب تک صرف کراچی میں یو پی ایس کی فروخت میں 30 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس طرح دوسرے شہروں میں بھی جنریٹرز اور یو پی ایس خریدے جارہے ہیں تاکہ آئندہ کی موسمی شدت سے محفوظ رہا جاسکے۔

21/03/2009 17:37:50 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے