اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے باعث شہریوں اور کاروباری طبقے میں جنریٹر اور یوپی ایس کا استعمال بڑھ گیا:
کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔09مارچ 2009 ء)موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے باعث شہریوں اور کاروباری طبقے میں جنریٹر اور یوپی ایس کا استعمال بڑھ گیا ہے ، اس ضمن میں شہریوں اور کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ مارچ کے شروع میں بجلی کا یہ حال ہے تومئی اور جون میں صورتحال اس سے بدتر ہوگی ۔ دوسری جانب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال 2008-09کے پہلے7ماہ جولائی 2008تاجنوری2009کے دوران ایک ارب ڈالر کے جنریٹر اور دیگر پاور مشینری درآمدکی گئی ہے جبکہ مقامی مارکیٹ میں چائنا سے درآمدشدہ جنریٹراور یوپی ایس کی بھرمارہوچکی ہے ، ایک عام یوپی ایس 8سے10ہزار روپے میں دستیاب ہے جبکہ ٹواسٹروک 60واٹ چائنا کے جنریٹر 5سے6ہزار روپے جبکہ فوراسٹروک چائنا کے جنریٹر ایک کلوواٹ 10سے12ہزارروپے ، 2کلوواٹ14تا15ہزار روپے جبکہ ڈھائی تاساڑھے تین کلوواٹ کے جنریٹر کی قیمت 18تا20ہزار روپے میں دستیاب ہے ،جوگزشتہ سال کی نسبت15سے20فیصدقیمت زائد ہے ، ذرائع نے بتایا کہ 4اسٹروک جنریٹر کو پیٹرول سے گیس میں تبدیل کرنے کیلئے گیس کٹ پر 3سے4ہزار روپے الگ سے خرچ آتا ہے ۔

09/03/2009 15:22:40 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے