اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

رات بھربجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری، بیشتر علاقوں کے لوگ رات جاگ کر گزارنے پر مجبور:
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مئی ۔2009ء)کراچی کے مختلف علاقوں میں رات بھربجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری جس کے باعث بیشتر علاقوں کے لوگوں نے مجبوراً رات جاگ کر گزاری،جبکہ اسی دوران لیاقت آباد کے علاقے میں لوگوں نے شاہراہ پاکستان کو بلاک کرکے احتجاج بھی کیا۔۔کراچی کے مختلف علاقے رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے جس کے باعث لوگ رات کا وقت سڑکوں پر گزار کر سراپا احتجاج بنے رہے۔لوڈ شیڈنگ سے بجلی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لائین ٹرپنگ کی شکایات عام ہیں۔ بن قاسم پاور پلانٹ کا ایک یونٹ بند ہے۔ کراچی میں مختلف مقامات پر اب بھی آٹھ کیبل فالٹ موجود ہیں۔کراچی کے علاقوں گلبرگ، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، ماڈل کالونی، نارتھ کراچی، ملیر،ناظم آباد ، گلستان جوہر سمیت دیگر علاقوں میں ہر تین گھنٹوں بعد بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،بیشتر علاقوں میں6 گھنٹے سے زائد بجلی معطل رہی،جس کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں نے سٹرکوں پر احتجاج کیا۔اس دوران بجلی کی معطلی کے باعث گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں نے کے ای ایس کے عملے کے خلاف نعرے بازی کی اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کراچی کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نجات دلوائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز میں موجود عملہ فون اٹھانے کی زحمت نہیں کرتا جس کی وجہ سے انھیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آخر بجلی کب بحال ہوگی اور وہ ساری ساری رات جاگ کر گزارنے پرمجبور ہیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو ڈھائی سو میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ وزارت پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق کے ای ایس سی اپنے وسائل اور آئی پی کی مدد سے بمشکل 1900 میگاواٹ بجلی فراہم کررہی ہے جبکہ صبح کے اوقات میں بجلی کی طلب 2200 میگاواٹ ہے اور شام کے اوقات میں یہ بڑھ کر2350 میگاواٹ ہوجاتی ہے۔

19/05/2009 15:57:18 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے