اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

تربیلاپاورہاؤس کے سٹور سے چوری ہونے والے کروڑوں روپے مالیت کے سامان کی تحقیقات شروع ہوگئیں،وزارت پانی وبجلی نے بھی نوٹس لے لیا:
غازی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔13اپریل 2009 ء) تربیلاپاورہاؤس کے سٹور سے چوری ہونے والے کروڑوں روپے مالیت کے سامان کی تحقیقات شروع ہوگئیں واپڈا نے چیف انجینئرتربیلا پاور ہاؤس سے رپورٹ طلب کرلی وزارت پانی وبجلی نے بھی نوٹس لے لیا۔تفصیلات کے مطابق باخبرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واپڈا اتھارٹی نے تربیلاپاور ہاؤس کے جنریٹروں پھاتی وائنڈنگ کیلئے استعمال ہونے والی کاپر کے83بار کے چوری ہونے کانوٹس لیتے ہوئے چیف انجینئرتربیلا بجلی گھر وجنرل منیجرتربیلا ڈیم محمدحنیف سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورتحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منسٹری آف واپڈا پاورنے بھی نوٹس لے لیا ہے اورمتعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے واضح رہے کہ تربیلا ڈیم میں واقع ڈل سٹور سے تربیلا پاور ہاؤس کے جنریٹروں کی وائنڈنگ کیلئے استعمال ہونے والی کاپر کے 83بارچوری ہوگئے ہیں جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے اور ہربارکاوزن26کلوگرام ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ خدانہ کرے کہ کوئی جنریٹربندیاخراب ہوجائے تو اس کی وائنڈنگ کیلئے بہت کم مقدار میں کارپر بارہے حالانکہ ہنگامی صورت کیلئے کاپربارکاہوناانتہائی ضروری ہے کیونکہ ملک کی بجلی کازیادہ ترانحصارتربیلابجلی گھرپرہوتا ہے جنرل منیجر تربیلا ڈیم کے پی اے محمد نیاز سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس معاملے کاتعلق جنرل منیجر تربیلاڈیم سے نہیں ہے بلکہ چیف انجینئرتربیلاپاور ہاؤس سے ہے یہ ذمہ داری جی ایم کی نہیں ہے۔

13/04/2009 15:29:03 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے