اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

موسم گرما کے دوران ملک کو 3500 میگاواٹ بجلی کی قلت متوقع:
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2مارچ ۔2009ء)نئے پلانٹ سے1500 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوار کے باوجودموسم گرما کے دوران ملک کو 3500 میگاواٹ بجلی کی قلت متوقع ہے، ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پیپکو کے واجبات کی عدم وصولی کے بعد ادارے کو مالی بحران سے بچانے کے لیے 98 ارب روپے مالیت کے ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اعلان کیا گیا ہے۔واضح رہے کے گذشتہ سال پیپکو کی ملک میں بجلی پیدا کرنے کے صلاحیت 17500میگاواٹ تھی جو اب گھٹ کر14500 میگاواٹ ہوگئی ہے۔پیپکو ذرائع کے مطابق رواں سال گرمیوں کے دوران ملک بھر میں بجلی کھپت 19500 میگاواٹ رہنے کی توقع ہے اس طرح نئے پاور پلانٹ سے1500 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوار کے باوجود بجلی کی قلت3500 میگاواٹ رہنے کی توقع ہے۔ اس صورت حال میں امکان ہے کہ موسمِ گرما کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ12 سے14 گھنٹے تک ہوسکتی ہے۔دوسری جانب پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل کرائسس مینجمنٹ طاہر بشارت چیمہ نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ادارے کے واجبات کی مالیت270 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی83 ارب50 کروڑ روپے کے ساتھ پیپکو کی سب سے بڑی مقروض کمپنی بن گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپکو کا دوسرے نمبر پر مقروض فاٹا ہے جس پر واجب الاادا رقم79 ارب75 کروڑ روپے ہے،مخلتف نجی اداروں میں نادہندہ ہونے والی رقم کی مالیت43 ارب روپے، سندھ گورنمنٹ کی12 ارب50کروڑ روپے، پنجاب، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے بالترتیب1 ارب50 کروڑ روپے ،7 ارب روپے اور3 ارب70 کروڑ روپے کے واجبات وصول کرنے ہیں۔طاہر بشارت چیمہ کے مطابق وفاقی حکومت پر پیپکو کی واجب الادادا رقم ڈیڑھ ارب روپے، دوسرے خود مختار اداروں پر75 کروڑ روپے ، آئی پی پیز کمپنی کے ڈیڑھ ارب روپے ،جاری قرضوں کی مالیت 20 ارب روپے اور دوسرے مختلف اداروں سے مجموعی طور پر 15 ارب روپے کے واجبات وصول کرنے ہیں۔

02/03/2009 14:11:33 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے