بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتبلڈ پریشر

مزید غذا اور صحت

- مزید مضامین

مزید عنوان

بلڈ پریشر

ضوھا عمران:
اوپر کا بلڈپریشر 110/130 جبکہ نیچے کا 90/70 ہو تا ہے‘ اگر اس سے زیادہ یا کم ہو تو اسے لوLow))یا ہائیHigh)) بلڈپریشر کہتے ہیں ۔
آج کل ہمارے معمولات زندگی ‘ کھانے پینے کی عادات اور سماجی روئیے سے ذہنی اور جسمانی امراض کی اہم وجہ بن رہے ہیں ۔
بلڈپریشر یعنی فشار خون کا مسئلہ آج کل عام ہی بات ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق 40 سے50 برس تک اور اس سے زائد عمر خواتین اور مردوں میں بلڈپریشر کا امکان زیادہ ہوتا ہے دراصل آج کل ہمارے معمولات زندگی کھانے پینے کی عادات اور سماجی روپے بہت سے ذہنی اور جسمانی امراض کی اہم وجہ بن رہے ہیں ۔انہی میں سے ایک بلڈپریشر بھی ہے۔پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ اب ہمارے ہاں نوجوانوں میں بھی یہ مرض بڑھتا جا رہا ہے ۔دراصل انسانی دماغ سے لیکرپاؤں کے انگوٹھے یک خون کی چھوٹی بڑی شریانوں کا یک جال سا بچھا ہوا ہے جب میں خون ایک خاص روانی کے ساتھ دل کے دریعے ہر لمحہ گردش کرتا ہے ۔اگر خون کا بہاؤ معمول کے مطابق ہو تو چونکہ جسم کے تمام اعضاء کو آکسیجن ملتی رہتی ہے اس لئے انسان صحت مند رہتا ہے لیکن اگر خون کی روانی میں تیزی یا سستی آجائے تو بلڈپریشر کا مرض ہو سکتا ہے۔عام طور پر بلڈ پریشر کے تین حصے ہو تے ہیں مثلا۔

(1) نارمل بلڈپریشر
(2) ہائی بلڈپریشر
(3) لو بلڈپریشر
اگر اوپر کا بلڈپریشر 110/130 اور نیچے کا 90/70 ہو تو اسے نارمل سمجھاجاتا ہے۔تا ہم اس سے زیادہ یا کم ہو تواسے لو یا ہائی بلڈپریشر کہتے ہیں البتہ 5 فیصد کم یا زیادہ ہو تو پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ۔ بلڈپریشر ہا ئی ہویا لو۔اس سے سر میں دردرہتا ہے بے موشی طاری ہو جا تی ہے یا غنودگی چھائی رہتی ہے۔جسم میں دور اور کھچاؤ سا بھی محسوس ہو تا ہے ۔جب یہ سب علامات ظاہر ہو ں تو قطعایہ اخذنہ کریں کہ آپ کا بلڈپریشر ہائی ہے لو ۔یعنی یہ علامات بلڈپریشر کی دونوں صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ دونوں صوررتوں میں بروقت احتیاط نہیں کریں گی تواس دل کا عارضہ ‘ گردوں کی خرابی نظر کی کمزوری اور فالج جیسے امراض بھی ہو سکتے ہیں ۔ہائی بلڈپریشر کی دیگر وجوہات میں باہر مونل پرابلمز
 Hormonal probelms)) ذہنی دباؤ موٹاپا اور ادویات کے مضر اثرات بھی ہیں ۔تاہم اپنے روزمرہ معمولات زندگی اور کھانے پینے کی عادات میں کچھ تبدیلیاں لا کر بلڈپریشر جیسے مرض پر قابو پا سکتی ہیں ۔یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کو بلڈپریشر کی کوئی علامت محسوس ہوتو فورأٴ بلڈپریشر چیک کروائیں اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ادویات کاباقاعدہ استعمال کریں ۔
بازاری ‘فروزن یا گھر میں فریز کئے گئے کھانوں کا استعمال کم سے کم کریں ‘دیر تک کھانے محفوظ رکھنے کی وجہ سے ان میں کاربوہا ئیڈریٹس اور سوڈیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
بلڈپریشر کی بہت سی ادویات موجود ہیں اگر کسی ایک نسخے سے سے افقہ نہ ہوتو ڈاکٹر کے مشورے سے بدل کر دیکھ لیں مگر لا پر وا ہی قطعا نہ برتیں ۔بدقسمتی سے بہت سے لوگوں کا اس کا علم ہی نہیں ہو تا اور نہ مرض سے متعلقہ کسی علامت کا احساس ہو تاہے ‘ ایسے میں وہ علاج سے محروم رہتے ہیں جو سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے ۔یادرکھیں ہائی بلڈپریشر کا اعلاج دنوں میں نہیں بلکہ پوری زندگی جاری رہتا ہے اس لئے مرض کی نوعیت کے مطابق ابتداء میں دوا کی تین ڈوززDosees))یعنی خوراکیں دی جاتی ہیں پھر آہستہ آہستہ کم کر کے ایک رہ جاتی ہے۔یعنی ہا ئی بلڈپریشر کے علاج کو لائف سٹائل کا حصہ بنایا مجبوری ہے لیکن کسی بھی تبدیلی کو اپنا نے پہلے اپنے معائج سے مشورہ ضرور کریں ۔یہ بھی یاد رکھیں کہ بلڈپریشر کی تشخیص تو جنرل فریشنGeneral Physician))کر سکتا ہے مگر علاج کے لئے صرف ہارٹ سپیشلٹHeart Specialist))کے پاس ہی جا ئیں ۔اگرچہ حیرت انگیز طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ 95 فیصد بلڈپریشر کے بڑھنے یا کم ہونے کی کوئی طبی وجوہات نہیں ہو تیں بلکہ محض موروثیت کی بنا پر لوگ اس مراض کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔یعنی اگر والدین میں سے کسی کو بلڈپریشر کا مسئلہ ہو تو یہ بچوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں گذشتہ دس برسوں کے دوران بلڈپریشر کے مریضوں مین دوگنا اضافہ ہو اہے۔
بلڈپریشر ہائی یا لو․․․اس سے سر میں دردرہتاہے ‘بے ہوشی طاری ہوجاتی یا غنودگی چھپائی رہتی ہے۔جسم میں درد اور کھچاؤ سا بھی محسوس ہوتاہے
” ہا ئی بلڈپریشر سے خون کی نالیوں کو نقصان پہنچتا ہے“
 جب خون کا دباؤ زیادہ ہو تو خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ سکڑنے اور پھیلنے کی خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہیں جس سے ان کی کار دگی متاثر ہوتی ہے بعض اوقات دل ‘دماغ ‘گردوں اور دیگر اعضاء کو زیادہ محنت سے کام کرنا پڑتا ہے ۔اس بنا پر بعض اوقات شریان پھٹنے کے واقعات بھی رونما ہو تے ہیں جو موت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ لو بلڈپریشر کی صورت میں
    -1پروٹین کور بوہا ئیڈرینس کے حصول کے لئے ہمیشہ تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں۔
    -2پانی اور مشروبات زیادہ لیں ۔
    -3دھوپ میں نکلنے سے ہر ممکن حد تک بچیں ۔
    -4نہانے کے لئے گرم پانی کا استعمال کم سے کم کریں ۔
    -5نمک کا استعمال لاڑی کریں لیکن خیال رہے کہ اس کی روزانہ مقداردس گرام سے زائد نہ ہو۔ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
دوا ہمیشہ مقرر وقت پر لیں اور دوا کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں ہر وقت آپ کی نظر رہے۔دوا لینے کے بعد اگر قسم کے مضراثرات محسوس ہوں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر آپ کسی اور مرض کی ادویات بھی لے رہی ہیں تو وہ بھی آپ کے معالج کے علم میں ہو نی چاہئیں ۔
بلڈپریشر نارمل رکھنے کے لئے․․․․
بلڈپر یشر کو نارمل سطح پر لانے کے لئے ایک ماہر ڈاکٹر آپ کی عمر طبی حالت وزن روز مرہ معمولات زندگی اور کام کی نوعیت کے مطابق ایک خاص ہدف مقر ر کرتا ہے جسے پوراکر نے کے لئے اپنے رہن سہن اور معمولات زندگی میں آہستہ آہستہ تبدیلی لا ئیں لیکن اسے کب تک جا ری رکھنا ہے ؟اس کا فیصلہ آپ کا ڈکٹر کے گا۔
دوران حمل نارمل بلڈپریشرکتنااہم ہے؟
اگرچہ ہائی بلدپریشر کے ساتھ نارمل بچے بھی پیدا ہو تے ہیں مگر ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل نہ کیا جا ئے تو بچے کے ساتھ ساتھ ماں کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ دوران عمل ماں کا بلڈپریشر ہائی ہو تو اس کے گردے اور جسم کے دوسے اعضاء بھی متاثر ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ نوزائید ہ بچوں کا وزن کم ہو تا ہے یا بچے کی پیدائش وقت سے پہلے بھی ہو جاتی ہے۔امریکہ جیسے ترقی یا فتہ ملک میں جہاں ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں وہاں بھی پہلی مرتبہ حاملہ ہونے والی ستر فی صدعورتوں میں بلڈپریشر بڑھنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں بلکہ ان خواتین کو عموما پریگنینسی سے قبل مرض نہیں ہوتا۔اکثر خواتین کا بلڈپریشر بچے کی پیدائش کے بعد نارمل ہوجاتاہے لیکن زندگی میں دوبارہ کبھی بھی یہ مرض لاحق ہونے کا خطرہ برقراررہتاہے۔
حمل کے دوران بلڈپریشر کا عارضہ ایسی خواتین کو بھی لاحق ہو جاتا ہے جہیں عموما پر یگنینسی سے قبل یہ مرض نہیں ہوتا۔
گھر میں بی پی (B.P ) کیسے چیک کیا جا سکتاہے؟
آپ اپنا بلڈپریشر بھی چیک کر سکتی ہیں لیکن چیک کرنے کا دورانیہ ڈاکٹر سے معلوم کریں کیو نکہ اس بار بار چیک کر نے سے ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور بی پی مزید ہائی ہو جاتو ہے۔آج کل مارکیٹ میں بلڈپریشر چیک کرنے کے کئی جدید آلات موجود ہیں جیسا کہ اینڈ رائڈ سپرنگ(Android Spring ) ڈیجیٹل(Digital ) اور مرکری (Murcury ) وغیرہ ۔البتہ درست ریڈنگ (Reading ) کے لئے مرکری مانیٹر کے ذریعے آپ آواز کے اتار چڑھاؤ کی پر یکٹس کر کے گھر میں ایک ہفتے کے اندر باآسانی ریڈنگ لینا سیکھ سکتی ہیں۔

(5) ووٹ وصول ہوئے