بند کریں
صحت مضامینمضامینسوائن فلو میں مبتلا مریضوں کو نزلہ کی شکایت ہوتی ہے

مزید مضامین

-

مزید عنوان

سوائن فلو میں مبتلا مریضوں کو نزلہ کی شکایت ہوتی ہے
ڈاکٹر محمد امین:
 انسانوں کی طرح جانوروں میں بھی مختلف بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ جس طرح انسان میں نزلہ زکام کی بیماری عام ہے‘ اسی طرح جانوروں میں بھی یہ بیماری پائی جاتی ہے۔ ”برڈفلو“ کے بارے میں کئی مرتبہ پڑھا اور سنا گیا ہے‘ یہ بیماری پرندوں میں پائی جاتی ہے لیکن آجکل ذرائع ابلاغ پر ایک نئی بیماری کے بارے میں خبریں سنی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ہر جگہ خاص طور پر مغربی ممالک میں خوف پایا جاتا ہے جسے ”سوائن فلو“ یعنی سور کا نزلہ کہا جاتا ہے۔
سوائن فلو تحقیق کے مطابق جس کے جراثیم انسانی نزلہ سے مختلف ہوتے ہیں جو انسانوں پر اثرانداز نہیں ہوتے ‘ البتہ ماضی میں ان لوگوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جن میں ایسے جراثیم پائے گئے جو سور سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں اور سوروں کا گوشت کثرت سے کھاتے ہیں اوراب یہ انہی لوگوں سے ان لوگوں پر اثرانداز ہو رہا ہے جن کا سوروں سے کسی قسم کا تعلق نہیں پایا جاتا‘ جو اس جانور کا گوشت بھی نہیں کھاتے۔
سوائن فلو کی علامات
سوائن فلو میں مبتلا مریض کو عام نزلہ کی شکایت ہوتی ہے۔ وہ بخار‘ کھانسی‘ گلے اور جسم میں درد‘ جلن کے ساتھ سر درد اور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ کچھ مریض اس مرض کی وجہ سے اسہال اور قے میں بھی مبتلا پائے گئے ہیں۔ یہ تمام علامات سوائن فلو کی وجہ سے ہی ہو سکتی ہے۔ جو ڈاکٹر عام نزلہ زکام سمجھ کر علاج شروع کر سکتا ہے لیکن اس کا انکشاف صرف لیبارٹری ٹیسٹ سے ہی ہو سکتا ہے کہ آیا یہ سوائن فلو ہے یا عام نزلہ زکام؟
سوائن فلو کی علامات میں کیا کرنا چاہئے؟
اگر کسی مریض میں یہ علامات پائی جائیں تو وہ گھر پر آرام کرے‘ کھانستے اور چھینکتے وقت اپنا منہ ٹیشو پیپر سے اچھی طرح ڈھک لے اور ٹیشو کو صرف ایک مرتبہ استعمال کرکے پھینک کر اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لے۔ اس طرح سوائن فلو زیادہ پھیلنے کا احتمال نہیں رہتا۔
سوائن فلو کا پھیلاؤ:
عام نزلہ زکام کی طرح سوائن فلو بھی نمایاں طور پر تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے جراثیم مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں آسانی سے منتقل ہو سکتے ہیں اور اگر مریض کسی چیز کو ہاتھ لگا لے اس طرح بھی اس وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ رہتا ہے کیونکہ یہ وائرس منہ‘ آنکھیں اور ناک چھونے سے بھی لگ جاتا ہے۔۔ یہ وائرس پہلے دن ہی کئی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔سوائن وائرس ہوا کے ذریعے بھی بہت جلد پھیل سکتا ہے اگر مریض احتیاط نہ کرے اور کھانسے اور چھینکتے وقت ناک منہ نہ ڈھکے‘ اس طرح وائرس ہوا میں پھیل کر کئی صحت مند لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اب تک اس مرض کے خلاف کوئی موثر ویکسین نہیں بنائی جاسکی ہے تاہم مریضوں کو اینٹی وائرل دوائیاں دی جارہی ہیں۔ امریکی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلو کی علامات اتنے زیادہ مقامات کے لوگوں میں پائی گئی ہیں کہ اس وائرس کو محدود رکھنا تقریباً ناممکن نظر آرہا ہے۔
اس وقت تک جان لیوا وائرس ’سوائن فلو ‘ نے ایشیا سمیت25سے زیادہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
سوائن فلو کا وائرس جتنا خطرناک اور جلد پھیلنے والا ہے‘ اتنا ہی حساس بھی ہے۔ ہومیوپیتھک جیسے عالمی ادارہ صحت(WHO) نے دوسرا بڑا امراض کی روک تھام کا طریقہ قرار دیا ہے
جوایسے خطرناک امراض سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتاہے‘
اوسلوکیسینم:یہ ہومیوپیتھک میں ایک نئی دوائی متعارف ہوئی ہے جو یونائٹیڈسٹیٹ اور یورپ میں ایک زبردست اینٹی وائرل دوائی کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ سوائن فلو سے متاثرہ مریض کی علامات کے مطابق‘ہومیوپیتھک ادویات جن میں ایکونائٹ‘ بیلاڈونا‘ ایپس‘آرسنکالبم‘برائی اونیا‘یوپٹریم پرف‘جلسیم اور دیگر ادویات ایسے موذی مرض سے نجات دلانے میں جادوائی اثرات رکھتی ہیں
سوائن فلو سے بچاؤ:
سب سے اہم اور ضروری اقدام کہ سوروں کو فوری طور پر ختم کردیا جائے یا اس کے گوشت پر پوری دنیا میں پابندی عائد کی دی جائے تو اس خطرناک مرض کو کنٹرول میں لایا جا سکتا ہے
چھینکنے اور کھانسنے کے بعد اچھی طرح ہاتھ صابن سے دھو لئے جائیں‘ اس مرض میں مبتلا لوگوں سے دور رہا جائے‘ اپنے ناک‘ منہ اور آنکھوں کو چھونے سے احتیاط کریں‘ غیر ملکی اشیاء خاص طور پر انگلش کھانے جو پیکنگ کی صورت میں ہمارے ہاں ملتے ہیں‘ ان میں سور کی چربی یا گوشت کا استعمال ہوتا ہے‘ ان سے پرہیز کیا جائے‘ کیونکہ ان کھانوں سے یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔ بچاؤ کے حوالے سے مزید تفصیلات اپنے فیملی ڈاکٹر یا محکمہ صحت سے لی جا سکتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے