اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"کیری لوگر بل" پر مزید کوریج

کیری لوگر بل ملکی خود مختاری اور وقار کے منافی ہے، نواز شریف ۔ اپ ڈیٹ:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 اکتوبر ۔2009ء)پاکستان مسلم لیگ (ن)نے کیری لوگر بل کو ملکی خود مختاری اور وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے قوم اور کسی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ آج غیر ملکی قرضوں کی مالیت 8ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومت ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کیلئے قومی منصوبہ تشکیل دے تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے قومی منصوبہ کو آئین کا حصہ بنایا جائے تاکہ قرضوں کی بجائے خود مختاری کے راستے کو برقرار رکھتے ہوے آئے بڑھا جائے۔ اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کو پاکستان کی سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ۔جمعرات کو یہاں پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ کیر ی لوگر بل پر مسلم لیگ (ن)نے اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھایا،انہوں نے کہا کہ آج سے دس سال قبل پاکستان مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں غیر ملکی قرضوں کی مالیت تین ہزار ارب روپے تھی اور آج بد قسمتی سے یہ قرضے آٹھ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل پر مسلم لیگ ن نے اپنی قومی ذمہ داری کو بطریق احسن انجا م دیا اور اس طرح کے اہم فیصلے پارلیمنٹ کے فورم پر کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا کہ کوئی دوسرا ملک یا قوم کسی دوسری کی تقدیر بدل سکتی ہے تو یہ خام سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راستہ خود انحصاری ہے اور کوئی بھی قوم خود انحصاری کے اصول کو اپنا کر ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی امداد یا قرضے ہمارے مسائل اور ہمارے دکھوں کا حل ہوتے تو آج ہمارے حالات تبدیل ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ آج پاکستان پر غیر ملکی قرضے آٹھ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں لیکن دس سال قبل ہمارے دور حکومت میں یہ قرضے تین ہزار ارب روپے سے کم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کے قرضوں کے باوجود پاکستان اب بھی بیماری جہالت غربت اور بجلی کے بحران جیسے گھمبیر بحران سے دوچار ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے اور آئندہ ہم قرضوں سے غریب عوام کی حالت کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل سے پاکستانی عوام نالاں دکھائی دیتی ہے ،کیر ی لوگر بل امریکہ کے کے مفاد میں ہے پاکستانی عوام کے حق میں نہیں،غیر ملکی امداد سے پاکستان کے غربی کی حالت بدلنے کی امید ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے کیری لوگر بل کی بعض شقیں عوام اور ملکی وقار کے منافی ہیں کیر ی لوگر بل جیسے اہم فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیں بل میں امریکی مفاد کوپیش نظر رکھا گیا ہے ۔کامیابی کا اصل راستہ خود انحصاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے غیر ملکی قرضوں سے نجات آسان نہیں قرضوں کے باجود پاکستان غربت اور بحرانوں کا شکار ہے ہم نے کب تک بھیک اور خیرات لے کر زندگی گزارنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بل کی بعض شقیں قومی سلامتی اور وقار کے منافی ہیں کوئی ملک غیر ملکی امداد کو شرائط کے ساتھ قبول نہیں کرتا کیری لوگر بل پر حکومت نے قوم کو اعتمام میں نہیں لیا ملک کی خود مختار ی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے حکومت کیری لوگر بل پر قومی فورم تشکیل دے سابق صدر پرویز مشرف کے بعد دوبارہ کشکول نہیں تھامنا چاہتے کیری لوگر بل قومی مفاد سے متصادم شقوں کی صورت میں قابل قبول نہیں آمریت نے قوم کو ذلت کے سوا کچھ نہیں دیا ایٹمی دھماکوں کے بعد اربوں ڈالر کی پیش کش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کیری لرگر بل پر قوم کو اعتماد میں لے اور مسلم لیگ ن سمیت کسی بھی جماعت سے مشورہ نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی پلان تیار کرے۔ اس کیلئے مسلم لیگ ن نے کچھ تیار کیا ہوا ہے تاکہ قرضوں کی لعنت نے جان چھڑائی جائے۔ سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ اس میں میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے اور اس نیشنل پلان کو آئین کا حصہ بنایا جائے تاکہ بیرونی قرضوں کی بجائے خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے ہم حکومت کے ساتھ اس معاملے پر بیٹھنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اس بل کو اس صورت میں منظور نہیں کرتی ۔ متنازعہ شقیں ختم کی جائیں تو پھر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2002 ء میں بھی ایسا بل پاس ہوا تھا اور مشرف کو اسی لائن پر بات کرنی چاہئے تھی لیکن میڈیا اور سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کی اس وقت بھی بل میں ایسی شرائط تھیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی آرگنائز کرنے کیلئے وقت درکار ہے اور آئندہ اس حوالے سے پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا واقعات افسوسناک ہیں اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو جب امریکہ بھیجا گیا اس سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا اور اس ڈرافٹ کو سب کے سامنے پیش کیا جاتا جہاں مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں حکومت مشاورت نہیں کرتی۔ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو شاید آج نوبت یہاں تک نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے کیری لوگر بل کا مسئلہ اٹھایا اور ہماری پارٹی ہر مسئلہ پر بات کرتی رہی ہے۔ آرمی چیف سے ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف اور چوہدری نثار سیکیورٹی ایشوز پر بات کرنے گئے تھے تو انہیں رات کے اندھیرے میں نہیں جانا چاہئے تھا وہ تو سب کے سامنے بھی ملا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا موقف وہی ہے جو پہلے دن سے تھا غیر جمہوری طریقے سے کوئی بھی حکومت کا خاتمہ کرے گا تو ہمارا کندھا اس کیلئے نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کو پاکستان کی سیاست میں نہیں دھکیلنا چاہئے ۔ سعودی عرب ہمارا خیر خواہ ملک ہے دشمن نہیں ۔ میں نے تو اب بھی اور مشرف دور میں بھی کاغذات داخل کرائے تھے انہوں نے کہا کہ اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرنا چاہتے ہیں اور پہلا موقع ہے کہ اقدار کی سیاست کو آگے بڑھایا جارہا ہے اور پاکستان کی ترقی صرف اسی راستے پر ہے۔ انہوں ن ے کہا کہ پاکستان آج بھی انڈر میٹرک چل رہا ہے جبکہ دنیا پی ایچ ڈی کر چکی ہے۔ 10 سال بعد ہم واپس وہیں آ جاتے ہیں پاکستان کے تمام دنیا سے بہترین تعلقات ہونے چاہئیں۔

15/10/2009 19:09:48 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے