بلوچستان کے بالائی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی ، راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ۔سرحد نے وفاق سے ڈیڑھ ارب روپے امداد مانگ لی۔اپڈیٹ:
راجن پور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9اگست۔2008ء)ملک کے اکثرعلاقوں میں بارش کاسلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ۔ ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان کے بالائی علاقوں میں بارش سے راجن پور میں مزید سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ تیز بارش کے بعد ڈیرہ غازی خان شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے ۔ اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ راجن پور کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ علاقے کا ایک بڑا حصہ تاحال زیر آب ہے ۔ چار سدہ ، مری ، تربت میں بھی موسلا دھار بارش ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ادھر بلوچستان کے بیشتر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام موثر انداز سے شروع نہیں ہوسکے ۔ نمائندوں کے مطابق بیشتر متاثرین امداد سے تاحال محروم ہیں ۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر میر ا جان کاکڑ کے مطابق جھل مگسی ،کچھی ،موسی خیل،پشین اور واشک میں متاثرین کیلئے خوراک اور پینے کا پانی بھجوا دیا گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسلام آباد,70راولپنڈی65،میانوالی41،پشاور,78 بالاکو ٹ 49،گھڑی دوپٹہ26 اور مظفرآباد میں 25ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ادھرڈپٹی ریلیف کمشنر صوبہ سرحد افضل کمال نے کہاہے کہ وفاقی حکومت سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے ۔ پشاورمیں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹکچر بری طر ح متاثرہواہے اس ضرورت کو مدنظر رکھے ہوئے وفاقی حکومت سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ حال انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے اور امدادی کاموں کے لئے امداد طلب کی گئی ہے ۔