سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری،سرحد نے وفاق سے ڈیڑھ ارب روپے امداد مانگ لی:
راجن پور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9اگست۔2008ء)سیلاب سے متاثرہ راجن پور کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرین کو خوراک پہنچائی جارہی ہے ۔ علاقے کا ایک بڑا حصہ تاحال زیر آب ہے ۔ادھر بلوچستان کے بیشتر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام موثر انداز سے شروع نہیں ہوسکے ۔نمائندوں کے مطا بق جس پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں اس کے مطابق خاطر خواہ امداد نہیں مل رہی اور بیشتر متاثرین امداد سے محروم ہیں ۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر میر ا جان کاکڑ کے مطابق جھل مگسی ،کچھی ،موسی خیل،پشین اور واشک میں متاثرین کیلئے خوراک اور پینے کا پانی بھجوا دیا گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پشاورکے شہری علاقوں میں78ملی میٹراور مضافاتی علاقوں میں 32،دیرمیں آٹھ ،تیمرگرہ میں تیرہ ،بالاکوٹ میں 49اور سیدوشریف میں دس ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق صوبہ کے مختلف علاقوں میں چودہ آگست تک وقفے وقفے سے بارش کاامکان ہے ۔ادھرڈپٹی ریلیف کمشنر صوبہ سرحد افضل کمال نے کہاہے کہ وفاقی حکومت سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے ۔ پشاورمیں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹکچر بری طر ح متاثرہواہے اس ضرورت کو مدنظر رکھے ہوئے وفاقی حکومت سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ حال انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے اور امدادی کاموں کے لئے امداد طلب کی گئی ہے ۔