موسلادھار بارشیں ،قذافی سٹیڈیم تالاب کا منظر پیش کرنے لگا:
لاہور(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین07 اگست2008 )ملک بھر میں اس وقت شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے کھیل کے میدانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اورقومی گراؤنڈز تالاب کا منظرپیش کرنے لگے ہیں۔ان شدید بارشوں سے سب سے زیادہ نقصان کرکٹ سٹیڈیمز کوپہنچا ہے جہاں نہ صرف بارشوں سے پچز زیر آب آگئی ہیں بلکہ قذافی سٹیڈیم،پنڈی سٹیڈیم اور ایل سی سی اے کرکٹ گراؤنڈ میں جاری ترقیاتی کام بھی رک گئے ہیں۔گزشتہ روز لاہور میں ہونیوالی تیز بارش سے پانی قذافی سٹیڈیم کی وکٹوں تک پہنچ گیا جس سے ایک بار پھر قومی کرکٹ ٹیم کے پریکٹس میچزمتاثر ہونے کا خدشہ پیداہوگیاہے۔دوسری جانب آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کی تیاریوں کے سلسلے میں قذافی سٹیڈیم میں جاری تعمیراتی کام بھی بارش کے باعث متاثر ہوا ہے،کالج اینڈکی جانب سے تیار کیے جانیوالا نیا میڈیا سنٹر تاحال مکمل طور پر تعمیر نہیں ہوسکاجس پر آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے شکایت بھی کی لیکن بارشوں کی وجہ سے ایک بارپھر میڈیا سنٹرکی تعمیر کے کاکام میں خلل پیدا ہوگیا ہے جس سے پی سی بی حکام بھی انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔پی سی بی کے پاس دولت کی ریل پیل ہے مگر قذافی سٹیڈیم جیسے ورلڈکلاس سٹیدیم کی گراؤنڈ میں پانی کا تالاب بن جانا انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں ترقیاتی کاموں کے نام پر لاکھوں پر روپے تو ہرسال خرچ کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کہیں بہتری دیکھنے میں نہیں آرہی۔قذافی سٹیڈیم 96ء کے ورلڈکپ کی میزبانی کا شرف حاصل کرچکا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا صدر دفتر بھی یہی واقع ہے لیکن اس کے باوجود سٹیڈیم کی بہتری کیلئے کوئی قابل غور کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی پانی کے انخلاء کیلئے جدید مشینری کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔قذافی سٹیڈیم پہلے ہی سے انٹرنیشنل میچز کے دوران بجلی کی بندش کی وجہ سے اپنی ساکھ کھوچکا ہے اور اب پانی کے تالاب اس کی اہمیت اور خوبصورتی کو متاثر کررہے ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب پنڈی سٹیڈیم کا تعمیراتی کام بھی تاحال مکمل نہیں ہوا اور خیال کیا جارہا ہے کہ راولپنڈی میں ہونیوالے میچز فیصل آباد یا ملتان کرکٹ گراؤنڈمیں شفٹ کیے جاسکتے ہیں تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچز کی منتقلی کے بارے میں تمام امکانات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




