راجن پور اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہی:
راجن پور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7اگست۔2008ء)پنجاب کے جنوبی ضلع را جن پور کے سیلاب سے متاثر علاقوں میں امدادی کام موثر انداز سے شروع نہیں ہوسکے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں اور ایک بڑا زرعی رقب متاثر ہوا ہے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے متاثرین کی مدد کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر فراہم کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے ۔ سیلاب سے راجن پور کے علاقے فاضل پور ، داجل، ہڑند ، سوہن والا ، فتح پور، شاہ والی ، گوٹھ مزاری اور دیگر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پہاڑی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلے میں کمی نہیں ہوئی۔ راجن پور میں فوج نے امدای کام شروع کردئیے ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ نے ایک لا کھ سے زائد متا ثر افراد کیلئے صرف پانچ سو خیمے تقسیم کئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے محدود پیمانے پر ہونے والا امدادی کام زیادہ موثر ثابت نہیں ہورہا۔ دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہاڑی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث بیشتر مقامات پر سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں دوردراز کے علاقوں میں مناسب مشینری نہ ہونے اور ضلعی و صوبائی انتظامیہ کے درمیان روابط کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں امدادی کارروائیاں موثر انداز میں نہیں ہورہیں۔ سڑکیں بند ہونے سے ان علاقوں میں خوراک کی قلت ہے جبکہ صوبائی انتظامیہ کے کسی اعلی عہدیدار نے متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کیا ۔ بلوچستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ آواران، موسیٰ خیل ،جھل مگسی، گنداوہ، پنجگور ،دکی ،جعفرآباد،بولان اور کچھی کے علاقے متاثر ہوئے ہیں اور بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




