ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث مزید 8 افراد جاں بحق ، چار روز کے دوران جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 50ہوگئی۔ راجن پور کی داجل کینال سے سیلابی ریلہ گزرنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ۔ سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5اگست۔2008ء)ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث مزید 8افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ چار روز کے دوران جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے ۔ ڈیرہ غازی خان میں کاہا نالہ سے آنے والا پچیاسی ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلہ راجن پور کی داجل کینال سے یونین کونسل فاضل پور اور یونین کونسل جہان پور سے گزر رہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں فتح پور، میراں پور، لنڈی سیداں، لال گڑھ اور نواں شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ سیکڑوں پر دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ راجن پور میں فتح پور ایئر بیس کو جانے والی سڑک سمیت متعدد رابطہ سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں بیشتر علاقوں میں لوگ گھروں کی چھتوں پر بیٹھے امداد کے منتظر ہیں جبکہ صوبائی وزیربلدیات پنجاب دوست محمد اور ملسم لیگ نواز پنجاب کے صدر ذوالفقار خان کھوسہ سے بعض متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے ضلعی حکومت کو نقصات کے تخمینے کی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب راولپنڈی اوراسلام آباد میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش ہوئی۔ نالہ لئی میں ڈوبنے والے دونوں بچوں کی لاشیں مل گئی ہیں ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث مزید آٹھ افراد جاں بحق ہوئے ۔ اس طرح گزشتہ چار روز سے جاری بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد پچاس ہوگئی۔ خیبر ایجنسی اوربلوچستان کے کئی اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تاحال شروع نہیں ہو سکی ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقے کمہ چشمی میں سیلابی ریلے میں دو بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ۔ گوجرانوالہ اور شکار پور میں مکانات کی چھتیں گرنے سے دو افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہو گئے ۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز تک پنجاب اور آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر بارش کی پیشن گوئی کی ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




