ملک میں سیلابی صورتحال کے جائزہ کے لئے وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت بنوں، شیخو پورہ ، شکار پور اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں آٹھ افراد جاں بحق۔۔۔ ڈیرہ غازی خان میں سیلابی ریلہ کے باعث عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت سیلاب سے متاثرہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 5اگست 2008ء)صوبہ بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع،لاہور ڈویڑن، گو جرانوالہ ، راولپنڈی ، پشاور سمیت ملک کے اکثر علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے اکثر علاقوں میں مزید بارش کی پیشین گوئی کی ہے ۔ خیبر ایجنسی اوربلوچستان کے کئی اضلاع میں امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں۔ ملک میں سیلابی صورتحال کے جائزہ لینے کے لئے اسلام آباد میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔ جس میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ادھر ڈیرہ غازی خان میں کاہا نالہ اور چھاچھر نالہ سے بڑا سیلابی ریلہ داجل اور روجھان کے مغربی علاقوں کی جانب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ نے مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی ہے ۔ خدشہ ہے کہ آنے والا ریلہ گزشتہ ریلے سے زیادہ تباہ کن ہوگا۔ صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقے کمہ چشمی میں سیلابی ریلے میں دو بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ۔ادھر کوئٹہ سمیت شمال مشرقی بلوچستان میں گزشتہ چار روز سے مون سون کی بارشوں نے تباہی مچادی ہے بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ بارش کے باعث آنے والے سیلابی ریلے میں مزید چار افراد جاں بحق ہوگئے ۔ پشاور کے سیلاب زدہ علاقوں شاہی بالا ، شاہی پایاں اور باچا خان مرکز کے قریب سیلابی پانی میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے ۔ ڈی سی او پشاور نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کا کام مکمل ہو گیا ہے ۔جبکہ ریلیف آپریشن جاری ہے ۔ لاہور ڈویڑن میں اب تک تیئس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے ۔ گوجرانوالہ اور شکار پور میں مکانات کی چھتیں گرنے سے دو افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہو گئے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




