ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 30ہوگئی ، تربت میں سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو 12 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی نہیں نکالا جاسکا، تاثر ہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ۔اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4اگست۔2008ء)ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے ۔جبکہ زیریں پنجاب اور بلوچستان کے علاقے تربت میں سیلاب میں پھنسے افراد کو تاحال امداد نہیں مل سکی ہے ۔ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں سیلابی ریلے سے سیکڑوں مکانات مہندم ہوگئے ۔ سیلاب سے متاثر علاقوں میں پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ سے زائد زخمی ہوئے ۔ صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں موبائل اسپتال اور فوج نے امدادی کام شروع کردیئے ہیں، پاک فوج کی امدادی ٹیموں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ دریائے کابل میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے ۔ پشاور ، نوشہرہ اور چار سدہ کی ضلعی انتظامیہ نے دریا سے ملحقہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے ۔ خیبر ایجنسی میں بارہ افرادسیلابی ریلے میں بہہ گئے ۔ سندھ کے ضلع دادو کی گاج ندی میں شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے ۔ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور میں سیلاب سے متاثرہ آبادی امداد کی منتظر ہے ۔تونسہ، ڈیرہ غازی خان، جام پور اور راجن پور میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے ۔ یہاں اب تک سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے ۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ملتان میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ بلوچستان میں سبی کی لہڑی ندی میں سیلابی ریلے سے دو گاوٴں لوہی بنڈ اور ترھا بنڈ زیر آب آگئے جس کے باعث متعدد مکانات تباہ اور مال مویشی بہہ گئے ۔ پنجگور میں نوان ندی میں طغیانی سے ایک شخص سیلابی ریلی میں بہہ گیا۔ حب کے قریب پھور ندی میں طغیانی کے باعث کوسٹل ہائی وے کو تاحال ٹریفک کے لئے کھولا نہیں جاسکا جبکہ کوئٹہ ہرنائی شاہراہ بھی آمدورفت کے لئے بند ہے ۔ میرانی ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے ۔ جبکہ تربت میں دریائے کیچ اور نینگ میں طغیانی سے علاقے کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے ۔ اوربارہ گھنٹے سے زیادہ وقت گذرنے کے باوجود پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل نہیں کیا گیا ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




