ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کے باعث مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 22ہوگئی، پشاور، نوشہرہ اور چارہ سدھ کی ضلعی انتظامیہ نے دریائے کابل کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی۔اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4اگست۔2008ء)ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کے باعث مختلف واقعات میں بائیس افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ سبی کی لہڑی ندی میں سیلابی ریلے سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے ۔ پشاور کے مضافاتی علاقے یونین کونسل رِیگی کے قریب ندی میں سیلابی ریلا آنے سے بڑا رقبہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے یہاں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے ۔ متاثرین نے ریلیف نہ ملنے پر وارسک روڈ اور خیبر روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا جبکہ ڈی سی او پشاور صاحبزادہ انیس کے مطابق ریگی میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ دریائے کابل میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے جبکہ پشاور ، نوشہرہ اور چار سدہ کی ضلعی انتظامیہ نے دریا سے ملحقہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے ۔ خیبر ایجنسی میں بارہ افرادسیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوئے ۔ کوہاٹ کے گاوٴں علی زئی میں سیلاب سے متعدد مکانات زیر آب آگئے ہیں۔ شدید بارش کے باعث پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور سرحد کے مختلف علاقوں میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ سندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جبکہ ٹنڈو آدم خان کے نشیبی علاقوں میں اب تک پانی جمع ہے ۔ ادھر سبی کی لہڑی ندی میں سیلابی ریلے سے دو گاوٴں لوہی بنڈ اور ترھا بنڈ زیر آب آگئے جس کے باعث متعدد مکانات تباہ اور مال مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ۔پنجگور میں نوان ندی میں طغیانی آنے سے ایک شخص سیلابی ریلی میں بہہ گیا۔گزشتہ تین روز سے بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں پشین،ہرنائی،سنجاوی،قلات، خضدار، وڈھ، بولان، گنداوہ، جھل مگسی، ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، موسیٰ خیل، ڑوب، آواران اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ حب کے قریب پھور ندی میں طغیانی کے باعث کوسٹل ہائی وے ٹریفک کے لئے بند ہے جبکہ کوئٹہ ہرنائی شاہراہ بھی آمدورفت کے لئے بند ہے ۔دریائے اورکیچ اور نینگ میں طغیانی آنے سے تر بت کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے اور میرانی ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے ۔پنجاب کے جنوبی شہر راجن پور میں سیلابی ریلے سے متاثرہ آبادی تاحال امداد کی منتظر ہے ۔داجل ، روجھان، میراں پور، شاہ والی ، تھل عالم سمیت بیشتر علاقوں میں پانی کی سطح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جبکہ جام پور، راجن پور اور فاضل پور کے علاقوں میں سیلابی پانی کم ہورہا ہے ۔پہاڑی نالوں سے گزرنے والا سیلابی ریلا دریائے سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ دیہی علاقوں میں کچے مکانات گرنے اور راستے بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے مربوط حکمت عملی اختیار نہ کیے جانے کی وجہ سے امدادی کام موثر طریقے سے انجام نہیں دیے جاسکے ہیں ۔ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے ۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




