ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کے باعث مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد اکیس ہوگئی، پشاور کے مضافاتی علاقے ریگی میں سیلابی ریلے کے باعث درجنوں دیہا ت زیر آب آگئے ، حب کے قریب پھور ندی میں طغیانی کے باعث کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوگئی:
پاکستان (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔4اگست 2008ء)ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کے باعث مختلف واقعات میں اکیس افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ سبی کی لہڑی ندی میں سیلابی ریلے سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے ۔ پشاور کے مضافاتی علاقے یونین کونسل ریگی کے قریب ندی میں سیلابی ریلا آنے سے بڑا رقبہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے یہاں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے ۔ بارہ افراد خیبر ایجنسی میں سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوئے ۔ ڈی سی او پشاور صاحبزادہ انیس کے مطابق ریگی میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ کوہاٹ کے گاوٴں علی زئی میں سیلاب سے متعدد مکانات زیر آب آگئے ہیں۔ شدید بارش کے باعث پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور سرحد کے مختلف علاقوں? میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ سندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جبکہ ٹنڈو آدم خان کے نشیبی علاقوں میں اب تک پانی جمع ہے ? ۔ ادھر سبی کی تحصیل لہڑی میں شدید بارش سے لہڑی ندی میں سیلابی ریلے سے دو گاوٴں لوہی بنڈ اور ترھا بنڈ زیر آب آگئے جس کے باعث متعدد مکانات تباہ اور مال مویشی سیلابی ریلے میں?بہہ گئے ۔پنجگور میں نوان ندی میں طغیانی آنے سے ایک شخص سیلابی ریلی میں بہہ کر جاں بحق ہوگیا،بیشتر علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔گزشتہ تین روز سے بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں پشین،ہرنائی،سنجاوی،قلات، خضدار، وڈھ، بولان، گنداوہ، جھل مگسی، ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، موسیٰ خیل، ڑوب، آواران اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مون سون بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ ضلع موسیٰ خیل میں شدید بارش کے باعث سڑکیں بہہ گئی ان علاقوں میں ضلعی ہیڈ کوارٹر تک ٹریفک معطل ہے ۔ حب کے قریب پھور ندی میں طغیانی کے باعث کوسٹل ہائی وے ٹریفک کے لئے بند ہے ۔ راستہ بند ہونے کے باعث کوئٹہ ہرنائی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں کچے مکانات گرنے اور راستے بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے مربوط حکمت عملی اختیار نہ کیے جانے کی وجہ سے امدادی کام موثر طریقے سے انجام نہیں دیے جاسکے ہیں ۔ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے ۔ پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ے


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




