سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق درخواست کی سماعت 2ہفتے کیلئے ملتوی:
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 23 اکتوبر ۔2009ء) سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس مشیر عالم اور جناب جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق مولوی اقبال حیدر کی درخواست کی سماعت مدعا علیہ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک عبدالقیوم کے وکیل رضوان احمد صدیقی کی طرف سے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی مہلت طلب کرنے پر 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔ جمعہ کو سماعت کے موقع پر درخواست گزار، رضوان احمد صڈیقی، عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عمر حیات سندھو فاضل عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر مدعا علیہ ملک عبدالقیوم کے وکیل رضوان احمد صدیقی نے استدعا کی کہ انہیں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی مہلت دی جائے۔ درخواست گزار نے اپنی دائر کردہ آئینی درخواست میں سیکریٹری وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور، وزارت داخلہ، سابق صدر پرویز مشرف، سید شریف الدین پیرزادہ، سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک عبدالقیوم اور رجسٹرار اسلام آباد کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 2 مرتبہ دستور پاکستان کی دھجیاں بکھیریں ہیں۔ ایک 12 اکتوبر 1999ء جب انہوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور دوسرا 3 نومبر 2007ء کو جب ملک بھر میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے 60 سے زائد اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو فارغ کیا اور مدعا علیہان اور ان کے ساتھیوں کے دونوں اقدامات غیر آئینی تھے۔ لہٰذا استدعا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمات چلائے جائیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




