اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"مشرف عدالتی کٹہرے میں" پر مزید کوریج

پرویز مشرف عدالت میں پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی، ماہرین، پرویز مشرف عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کرتے تو ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی، اعتزاز احسن:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23جولائی ۔2009ء)پاکستانی قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔پاکستان کی تاریخ میں کم ہی ایسا ہوا جب عدالت نے کسی فوجی حکمران کو نوٹس جاری کیا ہو۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی حکمران جنرل یحیٰ خان کو اقتدار سے علیحدگی کے بعد ’غاصب‘ قرار دیا تھا جبکہ ریٹائرڈ جنرل اسلم بیگ کو توہین عدالت کے جرم کے تحت نہ صرف سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا بلکہ انہیں مجرم قرار دیا۔ البتہ سپریم کورٹ نے کچھ ماہ بعد ہی جنرل بیگ کی نگرانی کی اپیل کو مان کر اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ کی طرف سے سابق صدر پرویز مشرف کو نوٹس کے اجراء کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنرل مشرف خود عدالت میں پیش نہیں ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف سے ان کا کوئی وکیل عدالت میں ان کی پیروی کرتا ہے تو پھر کیا صورت حال سامنے آئے گی؟آئینی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے صدر پرویز مشرف کو طلب نہیں کیا بلکہ نوٹس جاری کیے ہیں جن کا مقصد ان کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر تین نومبر کو ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان کرنے کے بارے میں زیر سماعت آئینی درخواست میں اپنا موقف پیش کرسکیں۔صدر مشرف کو اپنے موقف اپنے وکیل کے ذریعے یا پھر خود پیش ہو کر بیان کر سکتے ہیں۔ان کا یہ کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان نے جنرل مشرف کے دفاع سے انکار کردیا اور اس طرح دوسرا نکتہ نظر سامنے نہیں آسکا اور عدالت کے روبرو صرف ایک نکتہ نظرتھا جس کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے گئے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے جانے کے فیصلے کو مستحسن قرار دیا ہے اور ان کی رائے میں عدالت نے جنرل مشرف کو جو موقع دیا ہے اس پر انہیں عدالت میں پیش ہوکر صورت حال کا سامنا کرنا چاہئے۔اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ اگر پرویز مشرف عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کرتے تو ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی اور عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سابق صدر مشرف کے پاس اپنے موقف کے حق میں جواز پیش کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔قانونی ماہرین کی یہ بھی رائے ہے کہ صدر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونے کے پابند نہیں ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے انہیں کسی فوجداری مقدمے میں طلب نہیں کیا بلکہ ایک آئینی درخواست کے سلسلہ میں اپنا دفاع پیش کرنے کا حق دیا ہے تاکہ وہ خود یا پھر اپنے کسی نامزد وکیل کے ذریعے اپنا موقف پیش کرسکیں۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کی رائے ہے کہ یہ عدالت کا اپنا اختیار ہے کہ وہ نوٹس کی تکمیل نہ ہونے پر دوبارہ نوٹس جاری کرسکتی ہے ۔ تاہم اگر عدالت اس بات پر مطمئن ہے کہ نوٹسوں کی تکمیل ہوئی ہے تو اس صورت میں دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ اگر سابق صدر عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو اس صورت میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے جاسکتے کیونکہ عدالت کسی فوجداری مقدمے کی سماعت نہیں کررہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹس کے باوجود سابق صدر کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں جب مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا تو کوئی یہ اعتراض نہیں کرسکے گا کہ جنرل پرویز مشرف کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت کسی شخص کو اس وقت تک عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ صدر مملکت کے منصب پر فائز ہے۔ نواز شریف واحد وزیر اعظم تھے اور جو سپریم کورٹ کے حکم پر عدالت میں پیش ہوئے ۔

23/07/2009 19:14:23 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے