اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"مشرف عدالتی کٹہرے میں" پر مزید کوریج

پرویز مشرف قومی مجرم ہے، معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں، چوہدری نثار:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اگست ۔2009ء) قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جنرل مشرف قومی مجرم ہے کسی کو اختیار نہیں کہ وہ مشرف کو معاف کرے ۔ آئین اور قانون کے سب سے بڑے مجرم مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہونی چاہئے ۔ مسلم لیگ ن عدلیہ کے ایشو کی طرح مشرف کے خلاف آرٹیکل سکس کے تحت کارروائی کرنے کے حوالے سے جدوجہد جاری رکھے گی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت چینی کے بحران اور صدر زرداری کے مسلسل چین کے دوروں کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی ہم سب کیلئے مقدم ہے ۔ پوری دنیا میں روایت ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرکی تقاریر بغیر کسی مداخلت کے سنی جاتی ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر جس موضوع پر جب بولنا چاہئیں انہیں نہیں روکا جاسکتا ۔ گزشتہ روز سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ سپیکرڈاکٹر فہمیدہ مرزا اپنے ان احکامات کی وضاحت کریں ۔ انہوں نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پارلیمنٹ کو اچھے طریقے سے آگاہ رکھا جائے ۔ تین سالہ پرانی رپورٹس ممبران کو دی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ہم نے اپوزیشن لیڈر بنایا ہے کبھی کہا جاتاہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو چیئرمینی ن کو دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات اس ایوان اور میری توہین ہے اگر میں صدر زرداری کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر یا چیئرمین پبلک اکاؤنٹس بنا ہوں تو استعفی دینے کیلئے تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میثاق جمہوریت کے مطابق پی اے سی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر اس وجہ سے بنا کہ 91 ارکان کی واحد اکثریتی پارٹی ن لیگ نے مجھے اس عہدے کیلئے نامزد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے دورہ چین کے متعلق بتایا جائے یہ ان کا بطورصدر چوتھا دورہ ہے ۔ وزیراعظم ایوان کو صدر کے دوروں کے مقاصد سے آگاہ کریں ۔ یہ بے مقصد دورے عہدہ صدارت کے منافی ہیں ۔ کیونکہ صدر زرداری چین کے دارالحکومت میں جانے کی بجائے دیگر صوبوں میں کیو جاتے ہیں ؟ اور وہاں کے مقامی کمپنی کے عہدیدار صدر کا استقبالکرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چینی کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت پنجاب حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ وفاقی وزیر منظور وٹو نے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیرقیمتوں کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چینی کی قیمتوں کو عالمی معیار سے منسلک کیا جاتا ہے تو پھر گندم کی قیمت کو بھی عالمی معیار سے منسلک کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کی بجائے ملز مالکان کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ۔ ہم اسمبلیوں میں ملز مالکان کے تحفظ کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ہمیں عوام کا مفاد دیکھنا ہے ۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ چینی کی قیمت 45 روپے مقرر کی جائے حالانکہ اصل قیمت 37 روپے فی کلو بنتی ہے ۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ چینی پر سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی ہائی جائے تو چینی کی قیمت آسانی سے 45 روپے پر آ جائے گی ۔ اگر چینی باہر سے آنا شروع ہوگئی تو اس کی قیمت ساٹھ روپے تک جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آئین اور قانون کے سب سے بڑے مجرم مشرف کیخلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی سے انکار کردیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ فیصلہ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی نے بہت سے بحران حل کئے ہیں ۔ سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔ اگر یوسف رضا گیلانی وزیراعظم نے ہوتے تو شائد آج ملک کے حالات کچھ مختلف ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کیخلاف ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔ مشرف قومی مجرم ہے ۔بلاول بھٹو زرداری ، پیپلز پارٹی ، اسفند یار ولی یا نواز شریف کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ مشرف کو معاف کردیں ۔

20/08/2009 20:40:19 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے