نئے مالی سال کا قومی بجٹ بھی اتفاق رائے سے ہی منظور ہو جائے گا ‘قمر زمان کائرہ، بجٹ پارلیمنٹ میں سامنے آنیوالی تجاویز کی روشنی میں حتمی شکل اختیار کرے گا تو ہو سکتا ہے اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے گی جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے محبت کا رشتہ ہے کوئی ڈیڈ لاک والی بات نہیں‘صحافیوں سے بات چیت:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12جون۔2010ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا قومی بجٹ بھی اتفاق رائے سے ہی منظور ہو جائے گا اور توقع ہے کہ بجٹ پارلیمنٹ میں سامنے آنیوالی تجاویز کی روشنی میں حتمی شکل اختیار کرے گا تو ہو سکتا ہے اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے گی‘ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے محبت کا رشتہ ہے کوئی ڈیڈ لاک والی بات نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔و زیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بجٹ 2010-11ء بھی اتفاق رائے سے منظور ہو جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن ہمارا ساتھ دے گی۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے محبت کا رشتہ ہے ان سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اتحادیوں میں اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اختلاف رائے اور بھی کر لئے جاتے ہیں اس کا مطلب ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس بل میں کوئی متنازعہ بات نہیں۔ وزارت قانون سے اس پر رائے لی گئی ہے کوئی غیر آئینی کام نہیں کریں گے۔ بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن اسمبلی انوشہ رحمان کے فنانس بل پر اعتراضات ان کی زیادتی رائے ہو سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ کورم کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اراکین بجٹ بحث میں مکمل دلچسپی لے رہے ہیں۔برٹش پارلیمنٹ میں 650اراکین ہیں جن میں سے 50سے زیادہ حاضر نہیں ہوتے تب بھی ہاؤس کی کارروائی جاری رہتی ہے۔ 100فیصد حاضری پوری نہیں ہو سکتی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بڑے جاگیردار تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ ہم نے زرعی شعبے کی حمایت ضرور کی ہے۔ دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک زراعت کو سبسٹڈیز کرتے ہیں ۔ تاہم زرعی ٹیکس صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔ صوبے زرعی ٹیکس لگانا چاہیں تو لگا سکتے ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




