اگلا صفحہ

"قومی اسمبلیاں" پر مزید كوریج

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری، بجٹ میں کوئی درست سمت نہیں دی گئی، اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ختم نہ کی جائے، معاف کئے گئے قرضے واپس لئے جائیں اور زرعی ٹیکس نافذ کیا جائے، کرپشن عروج پر ہوتو کوئی بجٹ کامیاب نہیں ہوسکتا قوم بھوک سے مر رہی ہے اسے دو وقت کی روٹی میسر نہیں، پاکستان کی گورننس درست ہوتو ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ناگزیر ہے وفاقی کابینہ کا حجم کم کرکے آدھا کیا جائے، اپوزیشن اراکین ،تنخواہوں میں اضافے سے ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا، حکومتی اراکین:
اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12جون۔2010ء ) قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے کہا ہے کہ بجٹ میں کوئی درست سمت نہیں دی گئی، اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ختم نہ کی جائے، معاف کئے گئے قرضے واپس لئے جائیں اور زرعی ٹیکس نافذ کیا جائے، کرپشن عروج پر ہوتو کوئی بجٹ کامیاب نہیں ہوسکتا،قوم بھوک سے مر رہی ہے اسے دو وقت کی روٹی میسر نہیں، پاکستان کی گورننس درست ہوتو ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے، قومی واٹرپالیسی کا اعلان کیا جائے، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ناگزیر ہے وفاقی کابینہ کا حجم کم کرکے آدھا کیا جائے جبکہ حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے سے ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا ۔ہفتہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس11 بج کر15 منٹ پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت 15 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد ڈپٹی سپیکر نے چھٹی پر جانے والے اراکین اسمبلی کی درخواستوں کی منظوری دی اس کے بعد بجٹ پر بحث شروع کی گئی ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے غوث بخش مہر نے کہا کہ موجودہ وفاقی بجٹ پرخود وزراء بھی تنقید کررہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بجٹ درست نہیں اس میں کوئی نئی سمت نہیں دی گئی ہے دنیا بھر میں کاشتکاروں کو سبسڈی ملتی ہے ہم سبسڈی نہیں مانگ رہے ۔ مختلف قسم کے ٹیکس دیتے ہیں اس کے باوجود کہا جارہا ہے کہ زرعی ٹیکس نافذ کیا جانا چاہیے کاشتکاروں کو سہولیات میں دلچسپی نہیں لی جارہی۔ پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی ضروریات میں دلچسپی لی جائے میں وزیراعظم کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے موجودہ وزیرخزانہ کا تقرر کیا یہ لائق آدمی ہیں ان سے بہتری کی توقع ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریلوے عدم توجہی کا شکار ہے گنجائش کے باوجود اس میں بہتری نہیں لائی جارہی اسے پرائیویٹ پارٹنر شپ میں لاکر اس میں بہتری لائی جائے ٹریک اور گاڑیوں میں اضافہ کیا جائے کسی بھی ملک کی ٹرانسپورٹیشن میں ریلوے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں خاطر خواہ بہتری لائی جائے ان شعبوں کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کا خاتمہ کیا جائے ۔ نواب عبدالغنی تالپور نے کہاکہ ہماری حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے ہمیں خوشی ہے کہ اس بجٹ پر وہ تنقید نہیں کی گئی جو ماضی میں بجٹ پر ہوتی تھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ خوش آئند ہے اس سے ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ زرعی ٹیکس لگانے سے یہ شعبہ تباہ ہوجائے گا اس شعبے پر سبسڈی برقرار رکھی جائے سندھ میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے ہر ضلع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے جب تک لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا بلوں میں اضافی رقم نہ لگائی جائے ۔حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کی ناقص تعمیر کا نوٹس لیا جائے اور ایئرپورٹ کو فعال بنایا جائے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہاکہ موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے ہمیں جائزہ لینا چاہیے تھا کہ ایک غریب ملک کی عوام کی ویلفیئر کیلئے کس طرح بجٹ تیار کرنا چاہیے؟ مگر اس چیز کو مسلسل تیسری بار بھی نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صحت اور تعلیم کے شعبہ کیلئے کم رقم مختص کی گئی ہے تعلیم کیلئے بھی بجٹ کی رقم میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے میں اپنی جماعت کی طرف سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے مہنگائی کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ختم نہ کی جائے بلکہ اسے پہلے سے بڑھا یا جائے۔ تنخواہیں بڑھنے سے افراط زر اور مہنگائی بڑھے گی لہٰذا مہنگائی کو روکا جائے معاف کئے گئے قرضے واپس لئے جائیں اور زرعی ٹیکس نافذ کیا جائے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی حنیف عباسی نے کہاکہ میں نے اسمبلی میں 8 بجٹ تقرریں سنی مگر اس بجٹ میں تقریر پہلے سے منفرد تھی جس سے پتہ چلتا تھا کہ وزیرخزانہ نے بجٹ دیکھا اور پرکھا ہے اور اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن عروج پر ہوتو کوئی بجٹ کامیاب نہیں ہوسکتا جس شعبے میں اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہو اس شعبے میں ریفارمز نہیں لائی جاسکتیں لوگوں کے مسائل کو حل کرنا ہوگا اب لچھے دار تقاریر سے بات نہیں بنے گی ۔2008ء میں آٹے کی قیمت 15 روپے کلو تھی آج 30 روپے ہے اس طرح دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے حکومت کا باواآدم نرالا ہے فگرز عوام دوست نہیں بلکہ عوام کی سولی کے مترادف ہوتے ہیں ۔بیروزگاری میں 40اضافہ ہوا ہے ساری باتیں جب ہم پر ڈال رہے ہیں تو حکومتی اراکین کس مرض کی دوا ہیں اگر وہ ہم پر بھی ڈالتے ہیں تو پھر وہ اس طر ح آجائیں ہم اس طرف چلے جاتے ہیں اس سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔ قوم بھوک سے مر رہی ہے اسے دو وقت کی روٹی میسر نہیں یہاں پلاٹ دینے کی بات ہورہی ہے کسی صحافی، کسی بیوروکریٹ، کسی جرنیل اور کسی پارلیمنٹرین کو پلاٹ نہ دیا جائے ملز مالکان مزدوروں کا استحصال کررہا ہے کرپٹ لوگوں سے گلے پر ہاتھ رکھ کر عوام کا پیسہ وصول کیا جائے اگر سارے کام مل کر کرسکتے ہیں تو ہمیں موقع دیا جائے ہم کالا باغ ڈیم کا نام خیبر پختونخواہ رکھتے ہیں وہ بنانے دیا جائے یہ سستی بجلی کیلئے بنانے دیا جائے ۔ پلوشہ بہرام نے کہا کہ اس وقت ہمیں چیلنجز کا سامنا ہے اس وقت لفظوں کی ہیراپھیری کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہے مگر ہمارے پاس عوام کا جذبہ اور عزم موجود ہے اس وقت ہمیں اپنی مدد آپ کی ضرورت ہے کسی پر انحصار نہ کیا جائے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے کیری لوگر بل کے خالق نے پاکستان پر تنقید کرنا شروع کردی ہے جس کا شدت سے انتظار تھا کہ اس سے ریلیف ملے گا مگر اب اس پر انحصار نہ کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی احسن اقبال نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ حکومت دو سال میں وزیر خزانہ بدل لیتی ہے مگر عوامی مسائل جوں کے توں ہیں حکومت ڈھائی سال ضائع کرچکی ہے اور عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے افسوس ہے کہ افراط زر اتنا کم نہیں ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا حکومت کے وعدے پورے نہیں ہوئے بھارت اوربنگلہ دیش ہمار ے خطے کے ملک ہیں وہاں اقتصادی شرح نمو حوصلہ افزاء ہے مگر پاکستان میں عالمی کساد بازاری کا بہانہ بناکر جان چھڑالی جاتی ہے پاکستان کی گورننس درست ہوتو ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے مسئلہ عالمی اقتصادی بحران کا نہیں گورننس کا ہے دنیا تعلیم میں انقلاب برپا کررہی ہے اور ہم تعلیم کو نظر انداز کررہے ہیں آئی ایم ایف سے پیکج پارلیمنٹ میں کیوں منظور نہیں کرایا گیا ؟ آئی ایم ایف کی آئے روز نئی شرائط سامنے آجاتی ہیں آئی ایم ایف سے شرائط کی پاسداری نہ کرنے کو تو خودمختاری پر حرف قرار دیا جاتا ہے مگر حکومت کو ڈرون حملے نظر نہیں آتے کیا ڈرون حملے ہماری خودمختاری پر حرف نہیں ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات خوراک کو ترس رہا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی ہماری معیشت کا سہارا ہیں جو سالانہ 8 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں مگر ان اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت کوئی سہولت فراہم نہیں کرتی بیرون ملک پاکستان سکولز میں سفارش، جیالے پرنسپل اور اساتذہ متعین کئے گئے ہیں ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان سکولز کی انکوائری کرے ۔ مسلم لیگ (ن) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کی حمایت کرتے ہیں مگر صوبوں کی مشاورت کے بغیر یہ فیصلہ کیا گیا اور صوبوں کو 25فیصد کا کہا گیا تھا صوبوں نے 25فیصد کے حساب سے بجٹ بنایا تھا ۔ یہ فیصلہ مفاہمتی اور مشاورتی عمل کی نفی ہے اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں کیا گیا شرح خواندگی میں بھی اضافہ نہیں ہورہا ہم اپنی نئی نسل کو تاریکی اور اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ناگزیر ہے وفاقی کابینہ کا حجم کم کرکے آدھا کیا جائے پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں بند کی جائیں دیگر خسارے میں چلنے والے اداروں کی تنظیم نو کی جائے۔ قومی واٹرپالیسی کا اعلان کیا جائے بجٹ پر صحیح عملدرآمد کیلئے ایوان کی نگران کمیٹیاں بنائی جائیں درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کیلئے اصلاحاتی پیکج بنایا جائے بجلی کی پیداوار کو تھرمل سے پانی کی طرف لے کرجایا جائے ایوان صدر کی تزئین و آرائش پر 25 کروڑ روپے کا خرچ زیادتی ہے ۔ وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے کہاکہ حالیہ بجٹ میں بلوچستان کیلئے خاطر خواہ فنڈز رکھے گئے ہیں اپوزیشن لیڈر لیکچر دے کر غائب ہوجاتے ہیں وزیراعظم کی طرح انہیں بھی ایوان میں آنا چاہیے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے مثبت تنقید کی جانی چاہیے ہم افراط زر کو 25فیصد سے کم کرکے 11فیصد پر لے آئے ہیں آئی ایم ایف پیکج کابینہ نے منظور کیا تھا بیرون ملک کی ترسیلات زربڑھ کر ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہوگئی ہیں اپوزیشن لیڈر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافے پر تنقید بلاجواز ہے اضافے کی منظوری کابینہ نے دی ہے اس بجٹ میں صوبوں کو 400 ارب روپے اضافی دیئے گئے ہیں ۔ انجینئر امیر مقام نے کہاکہ اپوزیشن کو سنجیدگی سے حکومت کا احتساب کرنا چاہیے اگر حکومت صحیح کام نہیں کررہی ہے تو اپوزیشن بھی اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کررہی حکومت بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے موجودہ لوڈشیڈنگ خودساختہ ہے نوکریاں میرٹ پر دی جانی چاہئیں یہاں تو لائن مین ایک لاکھ روپے میٹر ریڈر 2 لاکھ روپے رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے حکومت عوامی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے پی ایس ڈی پی میں اچھے اچھے منصوبے ختم کردیئے گئے ہیں لواری ٹنل منصوبے کیلئے معمولی رقم رکھی گئی ہے لگتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو مکمل نہیں کرنا چاہتی ۔ بعد ازاں اجلاس پیر کی شام 5بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

12/06/2010 16:09:46 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب كو بھیجئیے
اس خبر كو اپنی اہم خبروں میں محفوظ كیجئیے
صفحہ پرنٹ كیجئیے
 

 

 

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.