اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"این آر او" پر مزید کوریج

وزیراعظم نے وزیر دفاع کو چین جانے سے روکنے پر سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کے تین افسران کو معطل کردیا،ایوان صدر میں آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی ملاقات میں احمد مختار کو روکے جانے کا معاملہ زیر غورلایا گیا،نیب نے وزیر دفاع کا نام ای سی ایل میں شامل نہ ہونے کا وضاحتی بیان جار ی کردیا، چیئرمین نیب کی معذرت:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 18دسمبر۔ 2009ء) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کو چین جانے سے روکے جانے پر سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کے تین افسران کو معطل کردیا ہے، جبکہ نیب نے وضاحت کی ہے کہ وزیر دفاع کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں تھا،تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع چودھری احمد مختار جمعرات کی شب سرکاری دورے پر چین جانے والے تھے ،تاہم ایئر پورٹ پر وزیر دفاع کو چین جانے سے روک دیا گیا۔ جس کی وجہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہونا بتائی گئی تھی۔ تاہم جمعہ کو نیب کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی کہ وزیر دفاع چودھری احمد مختار کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کی شب صدر زرداری سے ملاقات کے بعد سیکرٹری داخلہ چودھری قمرالزمان کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے ایف آئی اے کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر اور دوا نسپکٹرز کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو سیکرٹری داخلہ چودھری قمر الزمان اسلام آباد میں موجود نہیں تھے۔قبل ازیں چینی سفیر لو ژاو ہوئی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کرکے وزیر دفاع احمدمختار کے چین نہ جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم ہاوٴس اسلام آبادمیں ایک تقریب کے موقع پرچینی سفیرنے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ذرائع کے مطابق چینی سفیر نے گزشتہ روز وزیردفاع احمد مختار کے چین نہ جانے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ چینی وزیر دفاع اپنے پاکستانی ہم منصب کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ سے دونوں ممالک کے ایک معاہدے میں تاخیر پیدا ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نوید احسن نے وزیر دفاع سے رابطہ کیا اور ای سی ایل کے معاملے پر اپنے موقف سے انہیں آگاہ کیااوران کو دورہ چین سے روکے جانے کے حوالے سے معذرت کی۔ چیئرمین نیب نے انہیں بتایاکہ نیب کی جانب سے جن افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے درخواست دی گئی تھی ان میں احمد مختار کانام شامل نہیں تھا۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر دفاع احمد مختار کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا اورای سی ایل کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور تحقیقات ہونے تک بیرون ملک جانے سے انکار کردیا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے پر احمد مختار کی صدر آصف زرداری سے بھی ٹیلی فون پر بات بھی ہوئی۔ بعد ازاں ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ملاقات کی جس کے دوران کابینہ کے ایک سینئر رکن کو ایئر پورٹ پر روکے جانے کا معاملہ خاص طور پر زیر غور آیا، ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے اس واقعہ کی و جہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جس پر وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کرینگے۔ ملاقات کے بعد وزیراعظم نے سیکرٹری داخلہ اوردیگر افسران کی معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ۔

18/12/2009 22:24:34 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے