اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"این آر او" پر مزید کوریج

این آر او کے معاملے پر عدالت میں جانے سمیت تمام آپشن موجود ہیں ، چوہدری نثار ۔ اپ ڈیٹ:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 30 اکتوبر ۔2009ء) قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے کہا ہے کہ اکثریت کے بل بوتے پر اسمبلی چلانے سے حکومت محفوظ نہیں ہوگی۔ نواز شریف ملکی مفاد کا سودا کر کے باہر نہیں گئے۔ (ن)لیگ پیچھے ہٹ جائے تو حکومت گر جائیگی۔ مولانا فضل الرحمن حرام کو حلال قرار دینے کیلئے پینترے بدلنے کے ماہر ہیں۔ این آر او کے معاملے پر عدالت میں جانے سمیت تمام آپشن موجود ہیں اگر آصف ز رداری قومی صدر بنیں اور وعدوں کی پاسداری کی عادت ڈال لیں تو ملاقات کر نے کیلئے تیار ہوں ۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ ن این آاو کی بھرپور مزاحمت کریگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لئے انہیں کسی کو کندھا دینے کی ضرورت نہیں اور اگر مسلم لیگ نون ذرا سا بھی پیچھے ہٹ جائے تو حکومت گرجائے گی۔ سپیکر کی یقین دہانی کے باوجود این آر او پر شق وار رائے شماری کرائی جا رہی ہے اس لئے احتجاجاً اسپیکر کو لکھا جانے والا خط واپس لے رہے ہیں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ این آر کے ذریعے کریمنل مقدمات بھی ختم کئے گئے حکمران اگر این آر او پر ایوان کو میدان کارزار بنانا چاہتے ہیں تو گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی۔ چودھری نثار نے کہا کہ حکومت این آر پر پرویز مشرف کی طرح اسمبلی کو استعمال کرنا چاہتی ہے لیکن اس بدنام زمانہ اور کالے قانون کے خلاف جو پارلیمنٹ پر دھبہ ہے بھرپور مزاحمت کی جائے گی،اس قانون کے تحت بدعنوانی کے علاوہ اغوا اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات بھی بیک جنبش قلم معاف کر دئیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت شاید اس کو اکثریت کی وجہ سے پاس تو کرا لے لیکن یہ ان کے لیے کالک ہو گی۔انہوں نے کہا کہ این آر او کے تحت کروڑوں اربوں روپے معاف کراتے وقت شرم نہیں آئی تو اب فائدہ اٹھانے والوں کے نام قائمہ کمیٹی میں پیش کرتے کیوں شرم آ رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ر او سے استفادہ کرنے والوں نے نام پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ اکثریت کے بل بوتے پر اسمبلی چلانے سے حکومت محفوظ نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکا کے خلاف نفرت کی ایک وجہ این آر او ہے۔ چوہدری نثار نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو نواز دیا ہے حرام کو حلال قرار دینے کیلئے پینترے بدلنے کے ماہر ہیں۔چودھری نثار نے کہا کہ مولانا کل مشرف کے حرام کو حلال قرار دینے کے فتوے دیتے تھے اور آج زرداری انہیں ایوان صدر بلا کر کچھ خدمت کر دیتے ہیں تو ان کے حرام کو حلال قرار دینے کے فتوے دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن مائنس ون فارمولے پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ بنے گی۔ حکومت میں اگر جمہوری انداز سے تبدیلی آئے تو ٹھیک ہے لیکن غیر جمہوری انداز میں تبدیلی کے لئے کسی کو کندھا فراہم نہیں کریں گے۔چودھری نثار نے کہا کہ اگر آصف ز رداری قومی صدر بنیں اور وعدوں کی پاسداری کی عادت ڈال لیں تو وہ ان سے ملاقات کر لیں گے۔

30/10/2009 18:42:17 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے