اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"این آر او" پر مزید کوریج

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے این آر او کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، اپوزیشن کا واک آؤٹ، ایم کیو ایم اور ریاض فتیانہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، ہمارا موقف کمیٹی سن نہیں رہی تھی، غیر موجودگی میں ووٹنگ کرائی گئی ہے، مسلم لیگ ن کے اراکین کا موقف ۔ اپ ڈیٹ:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 30 اکتوبر ۔2009ء)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او ) کی کثرت رائے سے منظوری دیدی ہے کمیٹی نے شق نمبر سات میں ایک ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت کرپشن کا کوئی بھی کیس عدلیہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ اپوزیشن نے آخری مرحلے میں اجلاس سے واک اوٹ کیا ۔جمعہ کو قو می اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کا اجلاس چیئر پرسن بیگم نسیم اختر چوہدری کی صدارت میں ہوا جس میں این آر او کی شقوں کا مرحلہ وار جائزہ لینے کے بعد رائے شماری کی گئی جس میں این آر او کی سات شقوں میں سے پانچ کو اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ شق نمبر چار اور پانچ کومتفقہ طو رپر واپس لے لیا گیا جس کے تحت کسی پارلیمنٹرین کی گرفتاری سے پہلے کمیٹی کی اجازت ضروری تھی اور کمیٹی نے این آر او کی شق نمبر سات میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کے کیس عدالت کی اجازت کے بغیر ختم نہیں ہوں گے اجلاس میں این آر او کی شق نمبر 1,2,3,6اور سات کو منظور کر لیا گیا اجلاس میں مسلم لیگ (ق)کے رہنما امیر مقام نے این آر او سے ریلیف حاصل کرنے والوں کی فہرستیں اور تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او سے فائدہ حاصل کر نے والوں کے سیاسی کیس معاف کئے گئے ہیں یا قتل اورسنگین جرائم میں ملوث افراد کو بھی معاف کیا گیا ہے جس کے بعد اپوزیشن کے ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)رہنما زاہد حامد نے کہا کہ کمیٹی ہمارا موقف سن ہی نہیں رہی تھی اس لیے واک آوٹ کیا اور نہ ہی ہمیں این آر او سے ریلیف حاصل کرنے والوں کی فہرستیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ کہ شقوں کو بغیر بحث کے منظور کرالیاگیا ہے انہوں نے بتایا کہ منظور ہونے والی شقوں کی مخالفت میں چھ اور جبکہ حمایت میں سات ووٹ آئے جبکہ مسلم لیگ (ن)کی رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان نے کہاکہ جب کمیٹی سے این آر او سے فائدہ اٹھانے والے افراد سے تفصیلات طلب کی گئیں تو انہوں نے اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا جس کے بعد اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اسی دور ان اجلاس میں این آر او رائے شماری کرائی گئی ۔ایم کیوایم اور مسلم لیگ ہم خیال کے ریاض فتیانہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ آزاد رکن سید ظفر نے این آر او کی حمایت کی

30/10/2009 17:10:45 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے