وزیرستان اور سوات میں فورسز کی کارروائی،15دہشتگرد ہلاک،2سیکورٹی اہلکار شہید:
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔3جنوری۔ 2010ء) وزیرستان اور سوات میں جاری آپریشن راہ نجات اور آپریشن راہ راست میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پندرہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بارودی سرنگ کے دھماکے اور دیگر واقعات میں دو سیکورٹی اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے ۔پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بارودی سرنگ پھٹنے کا واقعہ جنڈولہ کے علاقے میں پیش آیا۔ سراروغہ کے قریب ایک جھڑپ میں تین شدت ہلاک اور چار زخمی ہوئے جبکہ فورسز نے اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی قبضے میں لے لی۔ ادھر جان خیلی کے قریب پولیس اور فورسز کے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران بائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ تین مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ڈی آئی خان کے گاوٴں مڈی میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے ، شکئی سیکٹر میں سرچ آپریشن کے دوران گولہ بارود کی بڑی مقدار برامد ہوئی جہاں سات بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ادھر رزمک سیکٹر میں شدت پسندوں نے پش زیارت چوکی پر تین راکٹ فائر کئے جس سے ایک سیکورٹی اہلکار شہید ہو گیا۔ اس علاقے میں فورسز نے مختلف بیس مقامات کی تلاشی لی اور دھماکہ خیز مواد کی بڑی تعداد برامد کی۔ سوات کے علاقے قادر بندہ پوسٹ پر فورسز نے پانچ شدت پسندوں کو روکنے کی کوشش کی مگر انکی طرف سے فرار کی کوشش پر فائرنگ کی جس سے دو شدت پسند ہلاک اور تین فرار ہو گئے ۔شکئی کے علاقے میں بھی دو شدت پسند فورسز کا نشانہ بنے ۔ ترجمان نے بتایا کہ چار باغ کے علاقے میں پانچ مشتبہ افراد نے خود کو رضاکارانہ طور پر فورسز کے حوالے کیا ہے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




