بند کریں
شاعری مضامینمضامینابرار احمد کی نظم کا تجزیاتی مطالعہ۔۔۔۔۔۔ عارفہ شہزاد
ابرار احمد کی نظم کا تجزیاتی مطالعہ۔۔۔۔۔۔ عارفہ شہزاد
یہ ابرار احمد کی نظم سیر بین کا تجزیاتی مطالعہ ہے ... تحریر عارفہ شہزاد
ابرار احمد کی نظم سیربین کا تجزیاتی مطالعہ (عارفہ شہزاد) سیربین (ابراراحمد) الٹے سیدھے قدموں میں، یہاں وہاں رکتا ہے کبھی کبھی چل پڑتا ہے بے خبری کی نیندوں کے آرام سے باہر سونی دوپہروں کی خالی خاموشی میں شام کے پھیکے بازاروں میں اک بے مول محبت کی خوشبو سے پریشاں اپنے سینے میں سہمے رازوں سے ہراساں گرم و سرد ہواؤں کی یلغار کے آگے اپنی میلی ذات کو اوڑھے گھنٹی کی جھنکار میں اپنی بیٹھی ہوئی آواز ملا کر کوئی صدائیں دیتا ہے ’’ہے کوئی؟ زندہ ہے کوئی؟ جاگا ہے کوئی؟ سنتا ہے کوئی؟ ان قصبوں اور شہروں کے آسیب سے نکلو اپنے گھروں کی مہک سے اور دھوئیں سے نکلو اپنی دیواروں تک ٹھہری نظروں کے آشوب سےنکلو لوٹو، اپنی حیرانی کی جانب لوٹو اپنی رونق اپنی، اپنی ویرانی کو لوٹو نکلو اس وحشت سے، تھوڑی دیر کو نکلو آنکھیں رکھتے ہو تو دیکھو دیکھو، دیکھنے والو،دیکھو۔۔۔ ’’طاقت ور کی منطق دیکھو دنیا میں دہشت پھیلاتے آگ اگلتے بندر دیکھو ان کے چکنے چہرے دیکھو اپنی گردن دینے والے احمق دیکھو اور پھر ان کی جنت دیکھو انگلستان کا سبزہ دیکھو دیوار چیں، اس کے لڑھکتے پتھر دیکھو روس پہ جمتی برف کو دیکھو ہن برساتے بادل دیکھو سبز ملایا، سنگا پور کے جزیرے دیکھو دیکھو اپنے خالی کھیسے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو دیکھو دیکھو ملک عرب کا صحرا کوفہ اور بغداد کو دیکھو اور جاپان کے پرزے دیکھو دیکھو۔۔۔وصل و فراق کی دنیا ازل کی پیاس اور پانی دیکھو یورپ اور امریکہ دیکھو ایشیا اور افریقہ دیکھو دیکھو، دیکھنے والو، دیکھو۔۔۔۔ ’’شاہ نجف کا روضہ دیکھو عرش پہ جاتا گھوڑا دیکھو کعبہ دیکھو، دیکھو،مسجد اقصٰی دیکھو بارہ دری مغلوں کی دیکھو پنکھے جھلتی لاڈ لڈاتی باندی دیکھو تاج محل اور مندر دیکھو بھکشو، صوفی،سادھو اور قلندر دیکھو گوری ملکہ کی بگھی کے پھیرے دیکھو چھک چھک کرتا انجن دیکھو موٹر دیکھو، چمنی دیکھو پھر دھرتی پر کھنچتی ہوئی تحریریں دیکھو لہو لہان ٹرینیں دیکھو اپنی مٹی تج کر آنے والے دیوانوں کو دیکھو ان کی خالی آنکھیں دیکھو دیکھو قائد کی بے طاقتی اور کرسی کی قوت دیکھو شالیمار کا جوبن دیکھو رنگ برنگی چڑیاں اور کبوتر دیکھو یحیٰی خان اور بارہ من کی دھوبن دیکھو دھان کے کھیتوں میں بھاری بوٹوں کا کیچڑ خون کے رنگ میں نقشہ غائب ہوتا دیکھو کچھ بے چین مسافر دیکھو اکڑی گردن اور زہریلی آنکھیں دیکھو اور پھانسی کے تختے دیکھو تعزئیے اور جلوس کو دیکھو کالے کپڑے اور لوگوں کا ماتم دیکھو اور قدرت کے کرشمے دیکھو عزت دیکھو،ذلت دیکھو نفرت کی آندھی چاہت کی بارش دیکھو مٹی کے ڈھیر پہ گرتے آنسودیکھو اور ہوا میں بکھرے ہوئے بے نام و نشاں جسموں کو دیکھو اور ان کی تدفین کو دیکھو کل عالم کی دلہن کو، اپنے وطن کو دیکھو اس پر تازہ مشق ستم کی آڑی ترچھی لکیریں دیکھو ’’ رستے کدھر نکل جاتے ہیں آسمان کا در ہے کہاں پر جگنو ،چاند ستارے کیا ہیں سورج کیوں بجھتا ہی نہیں ہے پانی کی منزل ہے کدھر کو ظالم و ظلم کا انت کہاں ہے دھرتی کیوں پھٹی ہی نہیں ہے منکر اور نکیر کو دیکھو اور اپنی تقدیر کو دیکھو اول کیا ہے، آخر کیا ہے رخساروں کا سونا دیکھواور بالوں کی چاندی دیکھو دیکھو جہل کی، زر کی سبقت دیمک لگی کتابیں دیکھو بے کل عمربتانے والی روحوں کی تنہائی کو دیکھو ان پر ہنستی دنیا دیکھو اور ان کی محرومی دیکھو اپنے پاگل من کو دیکھو نانک دیکھو، بلھا دیکھو خسرو دیکھو،خواجہ دیکھو ملا اور تماشا دیکھو دریاؤں کی روانی دیکھو جذبوں کی طغیانی دیکھو کھیڑوں کے پنجے میں روتی کرلاتی ہوئی ہیر کو دیکھو وارث شاہ دلگیر کو دیکھو اور اس کی تحریرکو دیکھو لوح جہاں پر باہو اور حسین کے آنسو پیر فرید کی ہوک کو دیکھو دیکھو،دیکھنے والو دیکھو۔۔۔‘‘ شہری بابو، لڑکے بالے بڑے گھروں سے جھانکنے والے کالج اسکولوں کے بچے دھول سےاٹے ہوئے میدانوں صاف اور ستھری گلیوں میں کہیں کشادہ رستوں پر تانگےوالے، ریڑھے والے جم کے دکان چلانے والے بیلوں کی جوڑی کے مالک اپنے ماتھے پر لشکائے کٹی ہوئی فصلوں کا سونا پگڑی والے، شملے والے پینٹوں اور قمیصوں والے مل کر راس رچاتے آئے گھنٹی کی آواز پہ چلتے،رکتے آئے روتے آئے، ہنستے آئے ’’ زنخے اور مراثی دیکھو برفی لڈو، پھول مکھانے گرما گرم جلیبیاں دیکھو دیکھواونچے تختےاوپر نور جہاں کے شوخ سروں پر گوٹا لگے ہوئےکپڑوں میں ناچتی گاتی لڑکیاں رنگ برنگی ٹکٹ کی کھڑکی،دھوم دھڑکا لکی سرکس شیروں والی چٹی چمڑی، ننگی خواہش گول سڈول اٹھانیں دیکھو رونے دیکھو، ہاسے دیکھو رنگ برنگے کپڑے اور کپڑوں کے اندر خوابوں کی تصویریں دیکھو اور ان کی تعزیریں دیکھو دھیرج والی بیبیاں دیکھو ان کی سرمہ لگی آنکھوں میں آزادی کی تڑپ کے گہرے ڈورے دیکھو دیکھوبوڑھے لاٹھی ٹیکتے،گرتے پڑتے ان کا سہارا بننے والے بیٹےدیکھو دھول اڑاتی کچ کچ کرتی لاری دیکھو اور بے سمت مسافروں کی میلی ،حیراں آنکھیں دیکھو سڑکیں دیکھو، کاریں دیکھو اور ان کی رفتاریں دیکھو دیکھو ٹھنڈے ریستورانوں کے شیشوں کے اندر باہر تپتے فٹ پاتھوں کی خلقت دیکھو دیکھو اپنی حالت،اپنے آئندہ کی صورت دیکھو اور کسی ان دیکھی دنیا میں بس جانے کی خواہش کے پھیرے دیکھو مایوسی کے ڈیرے دیکھو دیکھو پاس پڑوس کی آنکھیں ان میں ٹھہرے آنسو دیکھو انساں اور پرندے دیکھو اپنی گلیاں، اپنے گھراپنی دیواروں سے ٹکراتے گرتے اٹھتے،روتے ہنستے بچے دیکھو زندگیوں کے سستے پن پر دلوں میں اترے ڈر کو دیکھو گئےدنوں کی یادوں کی دیوار سے لگ کر آنےوالے کل کے رخ پر چادر دیکھو روز ازل سے شام ابد تک جو کچھ دیکھ نہیں سکتے ہو اور جو کچھ دیکھ رہے ہو، دیکھو دیکھو، دیکھنے والو، دیکھو ’’ آنکھ کی زد سے باہر کیا ہے دل کی حد کے اندر کیا ہے عکس ہے کیا شے،صورت کیا ہے تو کیا چیز ہے خواہش کیا ہے عمروں کی یہ گنتی کیا ہے ماہ و سال، کلینڈر کیا ہے شام و سحر کا چکر کیا ہے سر میں کیا طوفان مچا ہے اور سینے کے اندر کیا ہے ظاہرکیا ہے باطن کیا ہے کون سا پل کیا کر جائے گا کس لمحے کیا ہو جائے گا کون کہاں پر مل جائے گا کون کہاں پر کھو جائے گا انہونی کے حیلے دیکھو اپنی خاک کے ٹیلے دیکھو دیکھو اس مٹی میں اپنی مٹی ملتے اور اس دیش کی خوشبو کے سر چشمے دیکھو قبریں دیکھو، کتبے دیکھو دلوں میں ہر دم شور مچاتی دھول پہ گرتی شبنم دیکھو دھند میں گرتی شکلیں دیکھو جیتےجی بس دیکھتےجاؤ، ہاتھ ملو اور دیکھتے جاؤ دیکھتے جاؤ، چلتے جاؤ دیکھو ، دیکھنے والو۔۔۔‘‘ رنگ سے، نم سے خالی آنکھیں بے کل اور متوالی آنکھیں روئی ہوئی یا سوئی ہوئی ہیں اس نظم میں جس طرح نظم گو نے دائر ہ در دائرۂ خارج اور باطن کی قوسوں کو آپس میں ایک نقطے پر لا کر ملایا ہے اس سے نظم کی بنت ایک جیومیٹریکل حسن رکھتی ہے -نظم گو خارج کی دنیا سے ہوتا ہوا ،داخل کی دنیا تک آتا ہے اور اپنا وہ دل ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے جس کی درد مندی اس نظم کی تاثیر کی صورت ایک ایک مصرعے سے چھلک رہی ہے اگر میر کا دل اس کی \"دلی \"تھی تو ابرار احمد کی نظموں کا دل یہ \"سیر بین \" ہے یا یوں کہ لیجیے کہ سیربین کا یہ کردار جو ان کے کل کلام کا حاصل ہے- میں نے کردار کی اہمیت کی طرف اس لیے با لخصوص اشارہ کیا کے یہ نظم نہ تو ساختیاتی تفہیم کی متقاضی ہے نہ جدیدی و مابعد جدیدی نظریات کی محتاج ہے بلکہ اس کی تشریح ،توضیح و تعبیر بلکہ محاکمے میں اگر کوئی کلید کار گر ہو سکتی ہے تو وہ \"تمثیل نگاری \" کی تکنیک ہے ! نظم واضح طور پر تمثیل ہےایک مرکزی کردار ہے ،جس کے مکالمے ہیں ،جس کے گردا یک منظرنامہ بھی موجود ہے ،اس کردار کی حرکات و سکنات کی عکاسی بھی واضح ہے _ !اپنی فنی پرداخت میں اس نظم کے ڈانڈے ن .م .راشد کے \"ایران میں اجنبی \"کے کیںتو ز سے جا ملتے ہیں اور جعفر طاہر کے کیںتو ز مشمولہ \"ہفت آسمان \" کو بھی مت بھولیے گا !یہ کیںتو مذکورہ کیںتو ز سے منفرد اس لیےہے کہ جعفر طاہر کا مو ضوع سات اسلامی ممالک کی تاریخ اور جغرافیے کا بیان ہے ،ن.م .راشدنے ایران کی سرزمین کے حوالے سے قلم اٹھایا ہے جب کہ ابرار احمد نے اپنی زمین ،اپنے ملک کی تاریخ ،عالمی سیاست اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں اس کی حیثیت کو نمایاں کیا ہے اور نئی تنقید اسی \"مقامیت\" کو آفاقیت گردانتی ہے -نیز ایسا ہی ادب عالمگیر کہلانے کا مستحق قرار پاتا ہے جو مقامیت کی کوکھ سے آفاقی جذبوں اور تاثیر کو جنم دے - اس نظم کی دردمند لے ،زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے -ہرسرزمین اور ہر دور کا انسان جو سیاسی شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہا ہو وہ اس درد کا شریک رہے گا -یہ نظم کسی کی بھی کہانی ہو سکتی ہے ،اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا !اصل شے ہے نظم کی بنت اور اس سے جنم لینے والی تاثیر جو آفاقی ہے- نظم کے عنوان کا تجزیہ بھی بے جا نہ ہو گا-سیر بین \"اسم نکرہ ہے-اردو لغت بورڈ کی مطبوعہ \"اردو لغت \"تاریخی اصول پر \"کی جلد دواز دہم کے صفحہ نمبر ٣٢١ رسالہ \"مخزن \"کے ١٩٠٨ کے شمارہ ٤٤ کے حوالے سے اس کا استعمال مذکور ہے نیز ١٩٧٥ میں کرنل محمّد خان کی\" بسلامت روی \" میں بھی اس کے استعمال کا حوالہ دیا گیا ہے _مراد محض یہ ہے کہ ١٩٠٨ سے ١٩٧٥ تک اس لفظ کا استعمال مختلف حوالوں سے ہوتا آیا ہے-،آگے چلیں لغت میں اس عنوان کے معانی کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا ،سیر +بین =سیر بین ،مرکب لفظ ہے -سیر بمعنی تماشا اور بین بمعنی دیکھنے والا -\"فرہنگ عامرہ\"از عبدللہ خویشگی کے صفحہ ٣٥٤ پر اس کے دو معانی درج ہیں ١-تماشا دیکھنے والا ٢-تماشا دکھانے والا ---------گویا جو خود بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتا ہے ،وہ خارج سے بھی واسطہ رکھتا ہے اور داخل سے بھی بے خبر نہیں !\"فرہنگ تلفظ \"از شان الحق حقی کے صفحہ ٦٥٠ پر اس کا مطلب لکھا ہے \"کانچ کے ٹکڑوں کا کھلونا \"کیا کہتے ہیں ساختیات والے یہ \"کانچ \"کا \"دال\" کس چیز کا\" مدلول \"ہے ؟؟؟ایک بار پھر کلاسک سے رجو ع کیجیے : لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا دنیا کو آئنہ خانہ کہنا یا پھر دل کو شیشہ کہنا کہیں یہ دونو ں معانی اس نظم میں آمیز تو نہیں ؟؟؟ہیں ! اس نظم میں یہ دونوں معانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں-یہ بھی درست ہے کہ تنقید محض \"دیدہ دل \" کی صلاحیت کو تسلیم نہیں کرتی !اسے دلائل سے واسطہ ہے سو اس کی تسلی کے لئے دلائل بھی موجود ہیں !ایک بار پھر لفظ کی ساخت پر غور کریں \"سیر \"سلوک کا بھی تو ایک مقام ہے !تصوف کی مشہور تصانیف\"مصباح التعرف\" اور \"مکاشفات الاسرار \"میں اس سے مراد لی گئی ہے \"ایک تجلی سے دوسری تجلی میں جانا ،ایک حالت سے دوسری حالت میں جانا ،\"اور اس نظم میں نظم گو نے دونوں قرینے ملحوظ رکھے ہیں !تکنیکی سطح پر بھی اور فکری سطح پر بھی .میں یہ نہیں کہہ رہی کہ نظم گو نے اس کا شعوری اہتمام کیا ہے ،ہو سکتا ہے اسے خود بھی معلوم نہ ہو ! اور کیفیت وہ ہو کہ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے ! شاید قارئین کو ذیل کے مصرعوں جیسے مصرعے زاید لگے ہوں : برفی لڈو ،پھل مکھانے ----- گرما گرم جلیبیاں دیکھو لیکن کیا اس جیسے دیگر مصرعے بھی تماش گاہ کے منظر کو مکمل نہیں کر رہے ؟کیا یہ زندگی کو لا ابالی طریقے سے گزارنے والے لوگوں کا استعارہ نہیں بن گئے؟؟؟ اس نظم میں دیکھو کے لفظ کی تکرار بھی قابل غور ہے- یہ تکرار اس نظم کے کردار کی موزونیت کا تقاضا تھی _اگر تکرار نہ ہوتی تو اس کردار کی نفسیاتی کیفیت اس عمدگی سے سامنے نہ آتی- نظم کے آخر میں جب شاعر کہتا ہے : رنگ سے ،نم سے خالی آنکھیں روی ہوئی یا سو ہوئی ہیں میں نے ارادی طور پر بیچ کے دو مصرعوں کو الگ رکھا ہے : بے کل اور متوالی آنکھیں کسی فسوں میں کھوئی ہوئی ہیں کہ یہ الگ کردار کی آنکھیں ہیں -یھاں یہ اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ شا عر نے تو ان کو الگ نہیں رکھا !منطقی بات ہے کیفیت کا فرق بتاتا ہے کہ دو مختلف کردار مذکور ہیں _یھاں تفہیم کے لیے ڈرامائی مفاہمتوں کی ضرورت ہے جو تربیت یافتہ قاری کی متقاضی ہے- یہ واضح ہے اس نظم میں ایک کردار ہے مگر کیا یہ داستان گوہے یا \"سیربین \" نظم کا کردار ہے جسے شا عر نے تخلیق کیا ،اس کے مکالمے لکھے اوپھر اپنی یعنی شا عرکی دانش ورانہ نیابت کا فریضہ بھی سونپ دیا جو کردار نگاری کی موزونیت کے حوالے سے کھٹکتا ہے !سوال یہ ہے کہ شاعر نے متن میں کہیں ایک بار بھی اس کے لئے یہ واضح نام اختیار کیا ہے ؟نہیں !بلکہ متن تو یہ کہتا ہے : گھنٹی کی جھنکار میں اپنی بیٹھی ہوئی آواز ملا کر کوئی آوازیں دیتا ہے یہ \"کوئی \"کون ہے؟یہ شاعر ہے جس نے خود کو سیر بین کے قالب میں \"ہم احساسی کے الہامی جذبے کے تحت ڈھال لیا ہے -علم نفسیات کے مطابق یہ ایک اعصابی صورت حال ہے-شعرامیں یہ قوت عام انسانوں کی نسبت زیادہ ودیعت کی گئی ہے یہی وہ قوت ہے جسے افلاطون نے الہامی جنوں کا نام دیا ہے اور ارسطو اسے ہم احساسی کا نام دیتا ہے - ذرا ہم احساسی کی تعریف دیکھیے بات زیادہ واضح ہو گی : “Empathy is the projection of ourselves into ,or the identification of ourselves with objects either animate or inanimate ---Empathy has been boldly conceived as the agent of our knowledge of nature ,and in regard to Poetics as the source of personification,or as the basis of all metaphor that endows the natural world with human life,thought and feeling ---Empathetic identification depends upon motor- imagery,allied tactile and muscular impressions,with sensation of tension and release .Empathy is then relatively physical and instinctive” (PRINCETON ENCYCLOPEDIA OF POETRY AND POETICS) اس تعریف کی رو سے ہم احساسی اپنی شخصیت کا کسی دوسری شخصیت میں ادغام ہے- یہ تجسیم کا ذریعہ ہے اور کسی حد تک جبلی جذبہ ہے شمس الرحمان فاروقی نے اپنے مضمون \"ارسطو کا نظریہ ادب \"میں اس کی بخوبی وضاحت کی ہے -چناں چہ اگر اس نظم میں یہ تکنیک مستعمل ہے تو یہ مسئلہ لا ینحل نہیں بننی چاہیے -سیدھی سی بات ہے کے شا عر نے خود کو سیر بین کےکر دارسے مشخص کر لیا ہے ،اس کردار کے جملہ حرکات و سکنات گواہ ہیں کہ یہ جہاں خارج کی دنیا کا سیر بین ہے وہاں باطن کا بھی سفر کرتا ہے -تکنیکی سطح پر بھی اس کی یہ سیر کی کیفیت نہیں رکتی کبھی سراپا دانش ور شاعر کی صورت محو خود کلامی فلسفہ حیات کی مختلف گتھیاں سلجھانے کی سعی میں مصروف نظر آتا ہے اور کبھی سادہ لوح سیربین بن کر شیشے کے ٹکڑے پر ثبت تصویریں دیکھنے پر مایل کرنے کے لئے آوازے لگاتا پھرتا ہے -یہاں کاینات اور آئینہ خانہ کی تمثال بھی زیریں لہر کی صورت ساتھ ساتھ چلتی ہے جو نظم کی علامتیت اور نتیجتا جمالیاتی حسن میں اضافے کا موجب ہے – شاعر نے اس نظم میں فنی سطح پر جو تکنیک اپنائی ہے اسے میتھیو آرنلڈ کی شعری جمالیات ،معروضی تلازمےکا نام دیتی ہے !اور متھیو آرنلڈ کے نزدیک فن کے اظہار کا واحد طریقہ ہی معروضی تلازمے کی تلاش ہے ،آرنلڈ اپنے مضمون میں لکھتا ہے “The only way of expressing emotions in form of art has been by finding an ‘Objective Co-relative’,in other words, a sat of objects ,a situation a chain of events which shall be the formula of that particular emotion ,such that when the enternal facts,which must terminate in sensory experience, have been given,the emotion is immediately evoked )HAMLET AND ITS PROBLEM ( ابرار احمد نے اپنی نظم سیر بین میں بھی یہی پیرایہ اختیار کیا ہے یا یہ معروضی تلازمہ اپنایا ہے -انگریزی ادب میں براوننگ کے ہاں یہی ڈرامائی خود کلامیے کا انداز ملتا ہے -جدید اردو شا عر ی میں راشد کے ہاں یہ اندازسب سے نمایاں ہے -گویا نظم کی روایت میں یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہےکرداروں کےمکالموں میں شاعر فلسفہ کے ورود کا کس حد تک امکان ہے اور کیا جواز اور گنجائش ہے اس کی تفصیل کے لئے عقیل احمد صدیقی کی کتاب \"جدید اردو نظم نظریہ و عمل\" دیکھی جا سکتی ہے ،جو ١٩٩١ میں طبع ہوئی - ایک اور سوال اس نظم کی حد بندی کے اہتمام کے متعلق اٹھایا جا سکتا ہےاور وہ یہ کہ ڈھیلا ڈھالا سا اہتمام ہے -اس نظم کے کل ٩ حصے ہیں اور ان میں جہاں مکالمہ یا خود کلامی کی تکنیک ہے واضح واوین لگانے کا التزام موجود ہے ،یوں سمجھنا چنداں دشوار نہیں رہتا کہ یہ کس کے مکالمے ہیں !کہاں سے منظر نامہ شروع ہو رہا ہے اور کہاں شاعر کا اپنا تاثر جگہ پاتا ہے -بات ساری اس نظم کو تمثیل مان لینے پر منحصر ہے ،ذہن خود بخود ڈرامائی مفاہمتوں پر آمادہ ہو جاتا ہے -نظم میں معنویاتی سطح پر ایک سوال جو شاید تفہیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو وہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے کبھی کردار اندر کی دنیا دکھا رہا ہے کبھی خارج کی سیر کرا رہا ہے ،اس کا کیا تخلیقی جواز ہے ؟ جواب کے لئے تصوف کی \"سیر \"کی اصطلاح پر غور کریں،اس کے معنی میں جواز موجود ہے یا اسے بدھ مت کے نروان کے نظریے کو پیش نظر رکھ کر پرکھیے جواز خود ہی مل جاے گا _مکتی یا سکوں کی تلاش اورپھرلا حاصلی اس کردار کا المیہ ہے ! نظم کی معنوی تکرار کی بھی نشان دہی کی گئی ،ایک بار پھر معافی چاہوں گی کہ یہاں بھی توضیح کے لئے علم لغت سے مفر نہیں محض اشارہ کافی ہے ،دل اور سینے ،شام و سحر کے چکر اور ماہ و سال کے کلنڈر میں جو لغوی فرق ہے جاننے والے جانتے ہیں - اس نظم کی شعری جمالیات کا ایک اور واضح ثبوت ایلیٹ کا مضمون ہے – THREE VOICES OF POETRY جس میں وہ شاعری کی تین آوازیں قرار دیتا ہے پہلی قسم شاعر کی خود کلامی ہے دوسری وہ جس میں شاعر قارئین یا سا معین سے مخاطب ہوتا ہے اور تیسری قسم وہ ہے جس میں شاعر نہ تو خود سے باتیں کرتا ہے نہ قارئین ہی سے بلکہ وہ کردار متعارف کرتا ہے اور یہ کردار آپس میں گفتگو کرتے ہیں !کیا اس نظم میں ایلیٹ کی مبینہ کوئی بھی شعری آواز نہیں گونجتی ؟؟؟کیا اس میں یہ تینوں آوازیں تمثیلی حسن کے ساتھ گونج نہیں رہیں ؟یقینا ایسا ہی ہے بنا بریں میرا یہ دعوی ہے کہ اس نظم کی خارجی جمالیات معنوی منطق سے پورے توازن سے مربوط ہے اور یہ نظم طوالت کے باوجود کہیں بھی جھول کا شکار نہیں ہوئی – اگر اس نظم کی شعری جمالیات سے انکار کیا جائے تو پھرملٹن کی پیراڈائیز لاسٹ اور ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ کو بھی اسی زمرے میں رکھنا پڑے گا سو اس نظم کی شعری جمالیات کو تسلیم کرتے ہی بن پڑتی ہےیقینا ایسی نظمیں ہی اردو ادب کا سرمایہء افتخار ہی٘ں اور اس کا خالق لائق تحسین

(2) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء