بند کریں
شاعری مضامینمضامینعلامتوں کے تنوع کا شاعر ____ابرار احمد
علامتوں کے تنوع کا شاعر ____ابرار احمد
ڈاکڑ ابرار احمد کی شاعری پر عارفہ شہزاد کا ایک خوبصورت مضمون
علامتوں کے تنوع کا شاعر ____ابرار احمد (عارفه شهزاد) بالعموم دیکھا گیا ہے کہ ایک شاعر کے ہاں ایک مخصوص تجربے کی نقش گری کے لیے ایک ہی علامت متعین ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ اس کی اسیری سے کم ہی رہائی پا سکتا ہے مگر ابرار احمد کا معاملہ استثنائی ہے۔ان کے فکری نظام میں وجودیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور وہ اس کے اظہار کے لیے نوع بہ نوع علامتیں برتتے ہیں ۔پھر ان میں سے بھی ہر ایک علامت سے معنویت کے اتنے چراغ روشن کرتے ہیں کے ان کے تنوع پر حیرت ہوتی ہے۔ مٹی ۔ہوا،بارش ۔خواب ،خاک اور نیند میں سے ہر ایک علامت جب بھی ان کے ہاں آئی ہے ایک نیا روپ لائی ہے، آئیے مرے ساتھ ان کی شعری کائنات کی سیر کرتے ہیں.مٹی کی علامت ہی کو لیجیے.یہ ان کے ہاں جب کبھی آئی ہےمحض ایک مفہوم کی حامل نہیں ہے .کبهی وطن کی مٹی ہے،کبھی قبر کی اورکبھی تنہائی کی خاک!کبھی ضائع کردینے کے مفہوم میں برتی گئی ہے،کبھی جسم خاکی کا استعاره ہے،کہیں مسافتوں کی دھول میں ڈھل گئی ہے،کہیں فراموشی کے مترادف ہے اور کہیں وقت کی گزران کی عکاس.کبھی موت کا استعاره ہے تو کبھی تھکن کا...کبھی یه ایسی تلخ حقیقت کا استعاره ہے جس سے نیند ٹوٹ ٹوٹ جاتی هےاور کبھی ایسی مہربان ہے کہ زندگی کی قدر اسی کے حوالے سے سمجھ اتی ہے ذرا مٹی کے یہ سارے رنگ خود دیکھیے: مٹی سے اٹھ رهی تھی خوشبو کسی وطن کی (مٹی تھی کس جگه کی) مٹی اب ان قدموں تلے بے چین هے لوری سنا اے ماں همیں لوری سنا (لوری سنا) خاموشی دستک دیتی هے اور بند کواڑوں کی تنهائی هر سو خاک اڑاتی هے (مجید امجد کے لیے) اچھی ماں! عمر کے چلتے سائے کی تذلیل میں تیرے لهو کے رس کی لذت تیرے غرور کی ساری شکلیں ان رستوں میں مٹی مٹی کر آیا هوں (مٹی سے ایک مکالمه) مجھے بھی خاک یه اپنی نهیں لگتی مگر میں دیکھتا هوں تیری جانب اور جی اٹھتا هوں (اکتائے هوئے دوست سے) تمھارے خدوخال پر،کس لیے اجنبیت کی مانوسیت گہری اندھی مسافت کی دھول اور لاحاصلی کی تھکاوٹ جمی هے (اجنبی کون هو) میں نے اس کو دیکھا تھا جب پہلے پہل اور بالوں میں اس کے اپنے نام کی مٹتے نام کی مٹی گندھی هوئی تھی اس کے مٹتے نام کی مٹی مرتے نام کی مٹی چہروں پر اڑتی پھرتی تھی (میں نے اس کو دیکھا تھا) اور آج بھی خاک میں هے تیری صدا کا کنکر (نه جانے هم کس طرح ملے تھے) ابدیت کے جنگل میں بھٹکتی هوئی چاندنی اور هاتھوں سے گرتی هوئی مٹی (تم نهیں دیکھتے) \"تم کون هو....؟\" حالانکه اس سے کیا هوتا هے بارشوں میں مٹی بیٹھ جاتی هے (یادوں اور بادلوں میں) هم آئیں گے،تیرے مضافات میں مٹی هونے کے لیے (قصباتی لڑکوں کا گیت) مٹی اڑتی هے اور بیٹھ جاتی هے وه نیند میں چلتی هے اور مری راه دیکھتی هے (وه میری راه دیکھتی هے) کوئی مٹی اڑ جاتی هے اڑ جاتی هے اور بکھر جاتی هے (هر روز) اور زندگی کو جانتا هوں مٹی کے حوالے سے (میں گزرتا هوں) هوائیں شور کرتی هیں مٹی اڑتی هے ،هر جانب میری نیند ٹوٹ جاتی هے (نظم) میں نے کیوں ان بے اماں رستوں میں اپنی مٹی خراب کی (اگر مجھے...) اب \"هوا \" کی علامت کی طرف نگاه کیجیے جو ان کی شاعری کی غالب ترین علامت هے. جدید نظم کے تین بڑے نام مجیدامجد،راشد اور میرا جی هیں .ان میں سے مجید اجد کے هاں نظم \" وه ایک دن بھی عجیب دن تھا\" میں هوا کی علامت زندگی کے تحرک اور فعالیت کی علامت هے،ان کی نظم \"دوام\" اور\" شام \"میں هوا وقت کی علامت هے جو سب کچھ ختم کر کے رکھ دیتا هے .راشد کے هاں بھی هوا وقت کی قائم مقام هے نظم \"تسلسل کےصحرا میں\" کی مثال سامنے هے. میرا جی کے هاں نظم \" تنهائی\" میں جسم کے تقاضے اور ازلی جذبوں کا نکھار ،هوا کی علامت کی صورت ظهور کرتا هے اور وه اسے هوا کی لهر کهتے هیں. بعد کے دور کے شعرا میں منیرنیازی اور وزیر آغا دو ایسے شاعر هیں جن کے هاں یه علامت نمایاں هے.منیر نیازی کے هاں یه خوف اور تحیر کی فضا تشکیل دیتی هے اور وزیر آغا کے هاں اس کا تجسیمی رنگ نمایاں هے . اس تمهید سے مقصود یه هےکه نمایاں شعرا کے هاں بھی هوا ایک یا دو مفاهیم ہی میں بطور علامت برتی گئی هے.مگر ابرار احمد کے هاں اس کا علامتی روپ بھی هے اورتجسیمی روپ بھی . ان کی شاعری میں کبھی هوا مخاطب هوتی، بات سنتی، هنستی، روتی اور گاتی ہے توکبھی کسی تلاش میں سر گرداں نظر آتی هے اور ایسے تمام مقامات پر انسانی داخلی کیفیات کا استعاره بن جاتی هے.خوشی، غم،نارسائی، تنهائی اور یاد ...غرض کون سی کیفیت هے جو اس علامت کے وسیلے سے بیان نهیں هوئی. هوا کی علامت ،ابرار احمد کی نظموں میں ایک دو جگه نهیں ان کے مجموعه نظم \"آخری دن سے پہلے \" میں شامل اڑسٹھ نظمو ں میں سے اٹھائیس میں موجود هے. اتنے زیاده مقامات پر ورود کے باوجود اس کی معنویت کاتنوع قابل داد هے . نظم \" تری دنیا کے نقشے میں\"،\"زنده آدمی سے کلام\"اور\"موت مجھے بلاتی هے\" میں یه زندگی کی زرخیزی اور قوت نمو کی علامت هے. نظم \"تری دنیا کے نقشے میں \"یه وقت کی علامت بھی هے بعینه نظم \" هوا هر اک سمت بهه رهی هے \"اور ،\"هر روز\" میں بھی هوا وقت کے مترادف هے. نظم \"\"هم که اک بھیس لیے پھرتےهیں\" \"پس منظر کی آواز \"،اور نیندوں کے ملبے پر\"میں یه گزشته کی یاد میں ڈھل جاتی هے. نظم \" اجنبی کون هو\"،\"هوا جب تیز چلتی هے\"،\"نظم\"اور\"یادوں اور بادلوں میں\" یه زندگی کی تلخ حقیقتوں اور موجود کی الجھنوں کی عکاس بن جاتی هے. نظم \" سمندر سے مکالمه \" میں یه پراسراریت اور انجان دوری کی کشش کا استعاره هے. نظم \" هر سال کی آخری نظم\"،\"هنوز نیند میں هیں\"داستان\"اور\"هر رات سے گزرنے کے لیے\" میں یه نارسائی اور تنهائی کے خالی پن کی علامت هے. ابرار احمد کے هاں هوا کا یہ منفی روپ ہی نہیں اس کی مثبت جهات بھی هیں جہاں هوا پناه گاه بن جاتی هے: جب سرد هوا کے آنچل میں منه ڈھانپ پرندے سوتے هیں (مجید امجد) اور جب یه هوا ان کے هاں سر خوشی کا اعلامیه بنتی هے تو پوری کائنات جھوم اٹھتی هے: هے شام ابرو باراں پردے هلے دلوں کے آنکھوں سے چھو کے گزرے سپنے گئے دنوں کے بجنے لگے دریچے انجانی سر خوشی سے کتنے اڑائے چھینٹے اس سر پھری هوا نے دل میں تری طلب کے بجنے لگے ترانے جو دھول جم گئی تھی وه دھل گئی هے آخر جو بھیڑ میں اچانک هونٹوں سے گر گئی تھی دھن مل گئی هے آخر! (سر پھری هوا) جیسا کی میں نے کہا تھا ان کی نظموں میں هوا همدم ورفیق کا روپ اختیار کیے هوۓ هے سو کبھی یه بات کرتی هے ، اور کبھی بات سنتی هے..... ایک نظم\" دائرے ختم کهاں هوتے هیں \" میں انهیں هوا سے هم کلام هوتے دیکھیے: میں نے نم ناک هواؤں سے کہا \'دائرے ختم کہاں هوتے هیں اس کی بستی سے جو گزرو تو مرے نام کی اک بوند گراتی جانا\' نظم \"همارے دکھوں کا علاج ک هاں هے\" میں هوا گفتگو کی صفت سے متصف هے: اگر همارے دکھوں کا علاج بولنا هے تو هم هوا کی ظرح گفتگو کر سکتے هیں ابرار احمدکی ان ساری نظموں کو دیکھ لیجیے هوا کا کون سا رنگ ان کی نگاهوں سے مستور هے ؟ اس ایک علامت کے توسط سے کتنے منظر روشن ہوۓ ہیں ۔۔۔۔! ابھی تک میں نے محض دو علامتوں کی جانب آپ کی توجه دلائی هے۔ طوالت دامن گیر هے ورنه اسی طرح بارش، خواب،نیند،دھند کی علامتوں کے گرد مختلف النوع تلازموں کی کہکشائیں آباد هیں جن سے هر نظم کی کیفیت ،فضااور منظر نامه منفرد هو جاتا هے. جس شاعر کے هاں اس درجه تنوع هو وہ ایک موضوع پر بات کرتے ہوۓ بھی یکسانیت کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ہر بار جہان دیگر آباد کرنے پر قادر ہوتا ہے اور ظاہر ہے اک پھول کا مضموں ہو تو سورنگ سے باندھوں کا یہ ہنر جگر کاوی اور فنی پختگی کا متقاضی ہے جو ابرار احمد کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے هاں وجودیت کی هر سطح اور هر کیفیت ایسی تاثیر انگیز هے جوقاری کے وجود میں سرایت کرنے کا هنر جانتی هےاور اس کا سبب یقینا یہی هے که ابرار احمد ایک ایسے ساحر هیں جو علامتوں میں تنوع کا جادو جگاناجانتے هیں

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء